امریکی نژاد فلسطینی کو مرتا چھوڑنے والے فوجیوں کیخلاف کارروائی نہ ہوگی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل نے اعلان کیا ہے کہ وہ فوجی جنہوں نے ایک بزرگ فلسطینی نژاد امریکی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد پوری رات کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا تھا اور صبح وہ مردہ پایا گیا تھا کے خلاف مجرمانہ کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے خلاف صرف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیلی فورسز نے 78 سال کے عمر اسعد کو گزشتہ جنوری میں مغربی کنارے کے قصبے جلجلیا میں ایک عارضی چوکی سے حراست میں لیا تھا۔ فوجیوں نے اسے کسی تعمیراتی جگہ پر یہ کہتے ہوئے لیٹا چھوڑ دیا کہ وہ سو گیا ہے۔ صبح سویرے اس کی کلائی پر پلاسٹک کا پٹا بندھا تھا اور وہ مردہ پایا گیا تھا۔

آئی ڈی ایف نے کہا کہ عمر اسعد نے فوجیوں کی جانب سے اسے اپنی گاڑی سے سیکورٹی چوکی تک لے جانے کی کوششوں کے خلاف بلند آواز سے مسلسل مزاحمت کی تھی۔ تعاون سے انکار کرنے پر صہیونی فوجیوں نے اس کا منہ کپڑے کے ٹکڑے سے بند کردیا اور اس کے ہاتھوں کو پلاسٹ کی ڈوری سے ہتھکڑیاں لگا دی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد فوج نے عمر اسعد کی موت پر دو افسران کو برطرف کر دیا اور بٹالین کمانڈر کی سرزنش کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ سزا اخلاقیات نہ اپنانے اور ناقص فیصلہ سازی کی بنا پر دی گئی ہے۔

فوج کی قانونی اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ فوجیوں کے رویے میں غلطیوں اور عمر اسعد کی موت کے درمیان تعلق کی کوئی وجہ تلاش نہیں کی جا سکی۔

دل کی تکلیف میں مبتلا عمر اسعد کے حوالے سے ایک فلسطینی پوسٹ مارٹم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسے ذہنی دباؤ کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا تھا۔ فلسطینی حکام نے عمر اسعد کی موت کی وجہ اسرائیلی فوجیوں کی بدسلوکی کو قرار دیا ہے۔

اسرائیلی ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے یونٹ کے مطابق اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن نے اس واقعہ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے مکمل مجرمانہ تحقیقات اور مکمل احتساب کی توقع ہے۔ فلسطینی رہنماؤں نے اس میں ملوث فوجیوں کے خلاف بین الاقوامی ٹریبونل سے مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔

2017 اور 2021 کے درمیانی عرصے کے فوجی اعداد و شمار پر مبنی اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’’ییش دین‘‘ کی ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام لگانے والی سینکڑوں شکایات میں سے ایک فیصد سے بھی کم میں مقدمہ چلایا گیا۔

دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان مئی میں ہونے والے باہمی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ ہے یہ حملے "جنگی جرائم" کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے 9 مئی کو تحریک "اسلامی جہاد" کے تین فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں جنوبی اسرائیل کے قصبوں پر درجنوں راکٹ فائر کیے گئے۔

اس کشیدگی کے نتیجے میں 34 فلسطینی مارے گئے جن میں تحریک ’’ اسلامی جہاد‘‘ کے چھ فوجی رہنما بھی شامل تھے۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی چھاپوں نے فلسطینیوں کے گھروں کو غیر قانونی طور پر اور اکثر فوجی ضرورت کے بغیر اجتماعی سزا کے طور پر تباہ کیا ہے۔

تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غیر متناسب فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں بچوں سمیت فلسطینی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ جان بوجھ کر غیر متناسب حملے کرنا ایک جنگی جرم ہے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ اس نے 9 اسرائیلی فضائی حملوں کی تحقیقات کیں جن میں عام شہری ہلاک ہوئے اور غزہ کی پٹی میں رہائشی عمارتوں کو تباہ کیا گیا۔ ایمنسٹی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے مئی میں غزہ شہر کے اندر گنجان آباد علاقوں پر اس وقت بم برسائے جب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے حملوں کی منصوبہ بندی کی اور اس کی اجازت دی وہ شہریوں کو غیر متناسب نقصان پہنچانے کی توقع رکھتے تھے اور اسے جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں