اسرائیل نے غزہ میرین گیس منصوبہ کی ابتدائی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کے قریب گیس فیلڈ کی تعمیر کی ابتدائی منظوری دے دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی اور ہمسایہ ملک مصر کے ساتھ سکیورٹی روابط کی ضرورت ہوگی۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نقدی کے بحران سے دوچار فلسطینی معیشت کو تقویت ملے گی۔غزہ میرین منصوبہ پر اقدام کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ پیش رفت کا دارومدار اسرائیل کی سلامتی اور سفارتی ضروریات کے تحفظ پر ہے۔

اگرچہ مصر اور اسرائیل برسوں سے مشرقی بحیرہ روم (بحر متوسط) سے گیس نکال رہے ہیں ، لیکن غزہ کے ساحل سے قریباً 30 کلومیٹر (20 میل) دور غزہ میرین فیلڈ ، اسرائیل کے ساتھ سیاسی تنازعات کے علاوہ معاشی عوامل کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق غزہ میرین کے پاس دس کھرب (ایک ٹریلین) مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔یہ مقدار فلسطینی علاقوں کو بجلی مہیا کرنے کے لیے درکار گیس سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں سے کچھ ممکنہ طور پر برآمد کی جا سکتی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔البتہ ایک فلسطینی عہدہ دار نے کہا کہ ’’ہم یہ تفصیل جاننے کے منتظر ہیں کہ اسرائیلیوں نے کس بات پر اتفاق کیا ہے اور ہم میڈیا کو دیے گئے بیان کی بنیاد پر کوئی مؤقف پیش نہیں کر سکتے‘‘۔

حماس کے عہدہ دار اسماعیل رضوان نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا:’’ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ غزہ میں ہمارے لوگوں کو اپنے قدرتی وسائل پر حقوق حاصل ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں