سعودی خلائی سائنسدانوں کو اپنے تاریخی مشن کے دوران سب سے خطرناک لمحہ کب پیش آیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں خلا کے کامیاب تحقیقی سفر سے واپس لوٹنے والے سعودی عرب کےخلائی سائنسدانوں ریانا برناوی اور علی القرنی نے خلا میں اپنے تاریخی مشن کے دوران درپیش سب سے خطرناک لمحے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے اس سفر کا خطرناک ترین لمحہ وہ تھا جب وہ کیپسول میں تھے اور زمین پر واپس آنے کے لیے زمین کے خلاف کو توڑ کر زمین کے قریب آ رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق خلابازوں ریانا برناوی اور علی القرنی نے ’ایم بی سی‘ چینل کے صحافی خلف الخلف کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ خلاء میں تاریخی مشن سے قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کے الفاظ ہمارے لیے محرک ثابت ہوئے تھے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ "جاؤ ملک کی نمائندگی کرو اور اس سفرمیں کامیابی سے لطف اندوز ہو کر واپس آنا۔"

برناوی نے کہا کہ کیپسول کے اندر کا درجہ حرارت بہت زیادہ تھا، جب کہ باہر کا درجہ حرارت 3000 ڈگری سیٹی گریڈ تک تھا۔ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں سوچ رہے تھے کیونکہ ہم یہ بہت زیادہ درجہ حرارت کومحسوس نہیں کررہے تھے۔

القرنی نے نشاندہی کی کہ خطرات بہت ہیں۔ واپسی کے دوران زمین کے ساتھ رابطے اور کمیونیکیشن میں رکاوٹ کے دوران کیا ہو سکتا ہے لیکن ہم اپنی ٹریننگ کے ذریعے کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار تھے۔

انہوں نے سمندر میں آمد کے لمحے کو کیپسول کے اندر سکون اور خاموشی کا لمحہ قرار دیا۔ مائیکروفون کے ذریعے میں نے سفر کے باقی اراکین کو یقین دلایا کہ اب ہم زمین کے قریب آچکے ہیں۔

خلانورد علی القرنی نے خلائی پرواز کے دوران فضا میں داخل ہوتے وقت اپنے بچپن کو یاد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ماضی میں گیا۔ میں سعودی عرب کے ایک چھوٹے شہر سبت العلایا میں پیدا ہوا۔ وہیں سائیکل چلاتا تھا اور آج میں خلاء کے تحقیقی سفر پر نکلا ہوں۔ سائیکل سے تفریح کا یہ سفر اس وقت خلا کی مہم جوئی تک پہنچ چکا ہے۔ مُجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اس منزل تک پہنچ گیا ہوں۔ مگر یہ سب ہماری محنت، خدا کی توفیق اور سعودی عرب کی دانشمند قیادت کی سرپرستی میں ممکن ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں