مغربی کنارے میں حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جمعہ کو خبردار کیا ہے کہ فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کی صورتحال "قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔"

ایک بیان کے مطابق ترک نے کہا کہ "حالیہ قتل و غارت اور تشدد کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اشتعال انگیز بیان بازی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو گہری کھائی میں دھکیلنے کا باعث بنے گی۔"

گذشتہ پیر کے بعد سے شمالی مغربی کنارے میں ایک شدت دیکھی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں یا اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی اسرائیلی دراندازی اور حملوں میں تقریباً 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔ جنوری کے آغاز سے حملوں، تصادم اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

وولکر ترک نے کہا کہ "اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی پالیسیوں اور اقدامات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے لیے فوری طور پر کام کرنا چاہیے۔ ان اقدامات میں فلسطینیوں کے جینے کے حق کا تحفظ اور احترام شامل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ایک قابض طاقت کے طور پر اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق یہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں امن عامہ اور تحفظ کو یقینی بنائے۔تشدد کو روکنا چاہیے۔

سرکاری اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع کی بنیاد پر ’اے ایف پی‘ کی طرف سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک تشدد مارے جانے والے فلسطینیوں کی 174 ہوگئی ہے جب کہ اس عرصے میں 25 اسرائیلی، ایک یوکرینی اور ایک اطالوی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں