کیا ’اونروا‘ کو منجمد کرنے کی سفارش فلسطینی پناہ گزینوں کو ختم کرنے کی شروعات ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے اس سال کے بجٹ کو پورا کرنے میں ناکامی اور ڈونرز کانفرنس میں نئی مدد فراہم کرنے سے قاصر رہنے کے بعد یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کہ بہبود کا یہ ادارہ اپنی خدمات بند کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

’اونروا‘ ایجنسی کے کمشنر جنرل نے واضح طور پر انکشاف کیا ہے کہ ادارے کو لیکویڈیشن اسکیموں کا سامنا ہے جس کا مقصد اسے ’اونروا‘ کو ختم کرنا اور مہاجرین کے لیے کوئی حل تلاش کیے بغیر اس کی قانونی حیثیت کو ختم کرنا ہے۔

گذشتہ 10 سال سے ’اونروا‘ کو ختم کرنے کے لیے مہمات جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کو ختم کرنے کی تیاری سلسلے میں اس کے فنڈز کم کیے جا رہے ہیں۔ تنازع فلسطین کے حل میں تاخیر کے باعث اونروا کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔

انسانی حقوق اور اقتصادی مبصرین کے مطابق ’اونروا‘ کی طرف سے شروع کی گئی ایک سے زیادہ پریشان کن اپیلوں کا جواب دینے میں دنیا کے ممالک کی ناکامی، ڈونرز کانفرنس کی ناکامی اس کے پروگراموں کو پورا کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں ناکامی، نیز اس کی نااہلی اس کے بحران پر قابو پانے کے لیے تجاویز پیش کرنے میں ناکامی اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ذمہ دار ایجنسی کو ختم کرنے کی طرف پیش رفت کا واضح ثبوت ہے۔

بقا کی تجدید

’یو این آر ڈبلیو اے‘ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے فلسطینی پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے اپنا کام جاری رکھنے کے لیے ہر تین سال بعد ایک بین الاقوامی مینڈیٹ درکار ہے۔ اس نے 2022 کے آخر میں یہ مینڈیٹ حاصل کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رکن ممالک نے اس کے مینڈیٹ میں 2026ء تک توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے، مگراس کے باوجود یہ فیصلہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اچھا نہیں رہا۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے لیے تعلیم، صحت، غریبوں کے لیے امدادی پروگراموں اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کے لیے اسے ایک مالیاتی بجٹ کی ضرورت ہے۔ وہ اسے فراہم کرنے کے لیے دنیا کے ممالک کے رضاکارانہ عطیات پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن 10 سالوں سے اسے گرانٹس میں کمی کا سامنا ہے اور اس سال اسے صرف 25 فیصد امداد ملی ہے۔

یو این آر ڈبلیو اے کو بچانے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عطیہ دہندگان کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، لیکن ایجنسی کو 107 ملین ڈالر کی یقین دہانیاں موصول ہوئیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اونروا کو ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جب کہ اسے صرف چار کروڑ کے وعدے موصول ہوئے۔

’اونروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ "فلسطینی پناہ گزینوں کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔جہاں تک خوفناک اعدادو شمار کا تعلق ہے دنیا انہیں جانتی ہے۔ اگر آپ غزہ کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے مہاجرین بہت زیادہ نفسیاتی بوجھ کا شکار ہیں، کچھ منصوبوں کی وجہ سے وہ جامع غربت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کی عام زندگی کے بغیر وہ انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، کیونکہ پٹی کے رہائشیوں کا ماننا ہے کہ وہ بدترین حالات تک پہنچ چکے ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی کی فکر لاحق ہے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر نے اشارہ کیا کہ UNRWA کو سیاسی حمایت حاصل ہوئی تھی، لیکن فنڈز نہیں مل سکے۔ کوئی بھی اس ایجنسی سے نمٹنا نہیں چاہتا، جسے زندہ رہنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ سیاسی جگہ کی ضرورت ہے۔

لازارینی کے مطابق "اونروا" کو اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ خطرناک مالی صورتحال کا سامنا ہے۔ یہ بحران ایجنسی کو غیر قانونی قرار دینے کی مربوط مہموں کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں