اسرائیلی پارلیمان میں اعلیٰ عدلیہ کے پرکاٹنے سے متعلق متنازع بل پر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی پارلیمان (الکنیست) نے اتوار کے روز سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے پیش کردہ بل پر بحث شروع کی ہے جبکہ اسرائیل کی حزب اختلاف اور عوامی حلقے مذہبی قوم پرست حکمران اتحاد کی عدالتی اصلاحات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔

اس مجوزہ بل کے خلاف مارچ میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد نیتن یاہو اپنی عدالتی اصلاحات کی مہم کو معطل کرنے پر مجبور ہوگئے تھے تاکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ سمجھوتے پر بات چیت کی اجازت دی جا سکے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ان مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیا تھا اورانھوں نے قانونی سازی کے بعض حصوں پرنظرثانی کا حکم دیا تھا۔

مجوزہ ترامیم میں حکومت کے خلاف فیصلہ سنانے کی عدالت کی صلاحیت پر پابندی بھی شامل ہے۔مارچ میں ان عدالتی اصلاحات کے خلاف سڑکوں پر بڑے پیمانے پر عوامی احتجاجی مظاہروں ہوئے تھے اور ہفتے کی رات کو بھی حکومت مخالف کارکنوں نے تل ابیب کی ایک اہم شاہراہ کو بند کر دیا تھا۔

حکمران اتحاد کے قانون سازوں نے اشارہ دیا ہے کہ نیا بل سابقہ تجاویز کے مقابلے میں کہیں زیادہ نرم ورژن ہوگا۔اس میں انتظامیہ کے خلاف فیصلہ سنانے کے سپریم کورٹ کے اختیار کو قریباً مکمل طور پر واپس لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ نیا بل اب بھی بدعنوانی کے دروازے کھولے گا۔لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز گیلاد کریف نے پارلیمان میں بحث کے آغاز پر کہا کہ ’’آپ ایک ایسی قانون سازی کی تجدید کر رہے ہیں جس کا مقصد عدالتی نظام کی آزادی کو تباہ کرنا اور اسرائیلی جمہوریت کے نازک چیک اوربیلنس کو بری طرح نقصان پہنچانا ہے‘‘۔

حزب اختلاف کے رہنما یائرلابید نے ٹویٹر پر نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ قانون سازی بند کریں اور مذاکرات کو اس وقت تک بحال کریں جب تک کہ ہم ایسے معاہدوں پر نہیں پہنچ جاتے جو جمہوریت کا تحفظ کریں اور قومی تباہی کو روکیں۔

مجوزہ عدالتی اصلاحات نے اسرائیل کی جمہوری صحت کے بارے میں مغربی تشویش کو بھی جنم دیا ہے اور سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ناقدین اسے نیتن یاہو کی جانب سے عدالت کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، جن پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔

حکمراں اتحاد کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کا مقصد حکومت، مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کو متوازن بنانا ہے اور سپریم کورٹ کو لگام دینا ہے جسے وہ بہت زیادہ مداخلت پسند سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں