یہودی آباد کاروں کو اجتماعی سزا دی جارہی: اسرائیلی وزیر نے اپنی فورسز کی سرزنش کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے پولیس کے وزیر بن گویر نے مغربی کنارے میں فورسز کی کارروائیوں کو یہودی آباد کاروں کی اجتماعی سزا قرار دے دیا۔ انہوں نے یہودی آباد کاروں سے متعلق سخت رویہ اپنانے پر اپنی ہی فورسز کی سرزنش کردی۔ حالیہ عرصہ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فرقہ وارانہ تشدد پر سیکورٹی سروسز اور حکومت کے درمیان دراڑیں بڑھ گئی ہیں۔

یاد رہے حماس کے کارکن کے حملے میں چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں میں یہودی آباد کاروں کی ہنگامہ آرائی کی بین الاقوامی طور پر مذمت کی گئی ہے۔ اس صورتحال پر امریکہ نے بھی تشویش کا اظہار کردیا ہے۔

واضح رہے مغربی کنارے، مشرقی القدس اور غزہ میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے امریکی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات 2014 میں سبوتاژ ہوگئے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر ملک 1967 کی جنگ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل کی فوج، پولیس اور داخلی سکیورٹی سروس کے سربراہوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہودی آباد کاروں کی گزشتہ ہفتے کی کارروائیاں قوم پرستانہ دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے اس رویہ سے لڑنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔

قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے پولیس سے وضاحت طلب کی ہے کہ انہوں نے آنے اور جانے والوں کی سکریننگ کے لیے یہودی بستی ’’ عتریت‘‘ کے دروازے کیوں بند کردیے اور قریب کھڑے شخص کو کیوں چھیڑا تھا۔

وزیر بن گویر نے پولیس چیف کو بتایا کہ میں قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کی مخالفت کرتا ہوں لیکن وہ آباد کاروں کی "اجتماعی سزا" کو قبول نہیں کر سکتا۔ پولیس کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کا جواب نہیں دیا۔

دریں اثنا فوج نے کہا کہ اس نے ام صفا گاؤں میں ایک "پرتشدد تصادم" میں حصہ لینے کے شبہ میں ایک فوجی کو حراست میں لے لیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دو افراد رائفلوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک فلسطینی کی سمت عربی میں چیخ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے الٹرا نیشنلسٹ پارٹنرز کے بارے میں مغربی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا وہ پالیسی کو آگے بڑھائیں گے۔

پچھلے ہفتے نتین یاھو نے مغربی کنارے میں فسادات کی عمومی مذمت جاری کی۔ نیتن یاھو سے جب پوچھا گیا کہ سکیورٹی سربراہوں نے یہودی آباد کاروں کی ہنگامہ آرائی کو دہشت گردی قرار دیا ہے تو کیا وہ بھی اس سے متفق ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا تھا۔

نیتن یاہو کی قدامت پسند لیکود پارٹی کے کم از کم دو کابینہ وزرا نے دہشتگردی کی اصطلاح سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔

لیکوڈ کے وزیر توانائی اسرائیل کاٹز نے آرمی ریڈیو کو بتایا میرے خیال میں یہ ’’ہنگامہ آرائی‘‘ کی کارروائیاں قوم پرستانہ کارروائیاں ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم دہشت گردی ایک الگ چیز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں