حج میں فضول خرچی کو کم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے: سعودی عرب

سعودی عرب میں خوراک کے ضیاع کی وجہ سے پیدا ہونے والے فضلے کی مقدار سالانہ 40 لاکھ ٹن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں آج پیر 26 جون کو مناسک حج کا آغاز ہو رہا ہے۔ کل منگل کو وقوف عرفہ کیا جائے گا اور خطبہ حج دیا جائے گا۔ اس سال 30 لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کے فریضہ حج ادا کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔ اس ضمن سعودی عرب کی وزارت ماحولیات سے دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں میں کھانے پینے کی اشیا کو ضیاع سے بچانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

سعودی وزارت ماحولیات نے عازمین حج میں آگاہی مہم شروع کی ہے جس میں مناسک حج کے مراحل سے گزرنے کے دوران کھانے پینے کی اشیا کے معقول استعمال کی طرف توجہ دلائی جا رہی اور چیزوں کے ضیاع سے بچنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

وزارت نے زور دیا کہ عازمین حج اس چیز کا بھرپور خیال رکھیں کہ کھانے پینے کی اشیا میں سے کوئی شئی ضائع نہ ہو۔ خوراک کے ضیاع سے فضلے میں اضافہ ہوتا اور ماحول بھی متاثر ہوتی ہے۔

وزارت نے سعودی عرب میں خوراک کی وجہ سے پیدا ہونے والے فضلے کی مقدار کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں سالانہ 40 لاکھ ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔ اس مقدار کم کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں