مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے آبادکاری کے منصوبے کونقصان پہنچا رہے ہیں:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ آباد کاروں کی طرف سے فلسطین کے [مقبوضہ] مغربی کنارے کے قصبوں میں کیے جانے والے حملوں سے آباد کاری منصوبے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں پر حملوں سے نہ روکنے کا کہا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے اہم کل پرزوں کےدرمیان اختلافات نئی بات نہیں۔ غرب اردن میں پرتشدد واقعات پر حکومت اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کرگئے ہیں۔

یروشلم میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز پر نیتن یاہو نے "ان بیانات اور اقدامات کی مذمت کی جو زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات "امن و امان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔" لیکن نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل "بہت زیادہ بین الاقوامی دباؤ" کے باوجود مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر جاری رکھے گا۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمتی کارکنوں کے خلاف مساوات بدل دی ہے۔ انہوں نے گذشتہ مہینوں میں غزہ میں "حماس" اور "اسلامی جہاد" کی تحریکوں اور مغربی کنارے کے جنین میں بندوق برداروں کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔

اسی تناظر میں انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے کل اتوار کو پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہودی آباد کاروں کو "اجتماعی سزا" قرار دیا۔ فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں میں آباد کاروں پر "حماس" کے کارکنوں کی طرف سے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں چار اسرائیلیوں کی ہلاکت پر سخت عوامی رد عمل سامنے آیا تھا۔ امریکا نے بھی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

سنہ 2014ء میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کا مقصد مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ میں ایک فلسطینی ریاست کا قیام تھا۔ زیادہ تر ممالک 1967 کی جنگ میں قبضے میں لی گئی زمین پر اسرائیل کی تعمیر کردہ بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں جب کہ صہیونی ریاست یہودی بستیوں کی تعمیر پر تنقید کو مسترد کرتی ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی فوج، پولیس اور داخلی سلامتی کے رہ نماؤں نے کہا کہ آباد کاروں کے اقدامات "قومی دہشت گردی" کے مترادف ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کا عہد کیا ہے۔

اس وضاحت نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو کے وزراء کو سخت برہم کردیا۔

ایتمار بن گویر نے کہا کہ میں نے پولیس سے کہا کہ وہ عتیریت بستی کے دروازے بند کرنے کے پیچھے آمد ورفت کی جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ "قریب کھڑے ایک شخص پر تشدد کرنے" کی وجہ بتائے۔

بین گویر کی پارٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پولیس چیف کو بتایا کہ وہ "قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کی مخالفت کرتے ہیں" لیکن آباد کاروں کی "اجتماعی سزا" کو قبول نہیں کرتے۔

فوج نے کہا ہے کہ اس نے ام صفا گاؤں میں ایک "پرتشدد تصادم" میں حصہ لینے کے شبہ میں ایک فوجی کو گرفتار کیا ہے جہاں ایک راہگیر کی طرف سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دو افراد دو رائفلیں ایک فلسطینی پر تانے ہوئے ہیں جو عربی میں ان پر چیخ رہا ہے۔ اس دوران گولیاں چلنے کی آوازیں آتی ہیں اور وہ شخص زمین پر گر جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں