’’جدہ پورٹ‘ ہوائی جہازوں کی ایجاد سے پہلے مکہ معظمہ کا پہلا گیٹ وے تھا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بحیرہ احمر کی تاریخی شہرت طویل ماضی اور صدیوں پر محیط ہے اور تاریخ کی کتابوں میں اس کے تذکرے ملتے ہیں۔ ان ساحلوں پر ایک مشہور مقام پر جدہ اسلامی بندرگاہ ہے، جو اپنی مذہبی سرگرمیوں کے علاوہ حاجیوں کے استقبال کے اقتصادی پہلو کے باعث دیگر بندرگاہوں سے منفرد اور ممتازمقام رکھتی ہے۔

یہ بندرگاہ سعودی عرب کی برآمدات اور درآمدات کے لیے بھی پہلی بندرگاہ ہے، کیونکہ یہ عالمی جہاز رانی کے راستوں پراپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ تین براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑتی ہے۔ یہ بندر گاہ تین براعظموں کے درمیان ٹرانزٹ بحری تجارت کا اہم راستہ رہا ہے اور آج بھی یہ کئی ممالک کی ٹرانزٹ تجارت کا راستہ ہے۔

قدیم جدہ بندرگاہ
قدیم جدہ بندرگاہ

جدہ بندرگاہ کی تاریخ 646ء سے ملتی ہے

مکہ مکرمہ کے مغربی دروازے کی بندرگاہ کی ایک بھرپور اور طویل تاریخ ہے۔ یہ بندرگاہ تجارتی گیٹ وے ہونے کی وجہ سے اہمیت کی حامل رہی ہے۔ یہاں سے ہاتھی دانت، مور کے پر، صندل کی لکڑی، لوبان، سنہری کپڑے، مصالحے، مہوگنی کی لکڑی اور دیگر چیزیں بحری جہازوں پرلاد کر دوسرے علاقوں کو بھیجی جاتی تھیں۔

مؤرخ عدنان الیافی کہتے ہیں کہ "جدہ مکہ مکرمہ کے لیے ایک بندرگاہ اور اس میں آنے والے عازمین کے لیے ایک کراسنگ پوائنٹ تھا"۔

ان کا کہنا ہے کہ جدہ کی تاریخ کے بارے میں مستند مصادر میں چوتھی صدی ہجری کے دور کے ایک سیاح المقدسی کی کتاب "أحسن التقاسيم في معرفة الأقاليم" میں موجود تفصیلات سے جدہ بندرگاہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

قدیم جدہ بندرگاہ
قدیم جدہ بندرگاہ

فاضل مصنف نے لکھا کہ جدہ قدیم زمانے سے بحیرہ احمرجسے پرانے زمانوں میں بحیرہ قلزم کہا جاتا تھا کے اطراف میں واقع ممالک کے درمیان ایک کراسنگ پوائنٹ تھا۔

عبداللہ الاندلسی نے اپنی کتاب "معجم ما استعجم" میں لکھا کہ "جدہ ساحل مکہ" ہے۔ اسی مناسبت سے اس بندرگاہ کی اہمیت اسلام کے ظہور کے بعد بڑھ گئی۔ جدہ اسلامی بندرگاہ کی اہمیت اس وقت نمایاں ہوئی جب تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سنہ26 ھ میں الشعیبہ بندرگاہ کے بجائے جدہ بندرگاہ کو مکہ معظمہ کی بندرگاہ قرار دیا گیا۔ سنہ 26ھ بہ مطابق ساتویں صدی عیسوی میں جدہ کو حج اور عمرہ زائرین کی آمد ورفت کے لیے مختص بندر گاہ قرار دیا۔

الیافی لکھتے ہیں کہ مکہ کے تاجر مغرب کی طرف جدہ سے حبشہ اور دیگر افریقی ممالک کی طرف سفر کرتے تھے۔ وہ جنوب میں یمن اور دیگر ممالک کے سفر کے لیے اس کا استعمال کرتے۔ ظہور اسلام سے قبل جدہ بندرگاہ ایک اسٹریٹجک ذخیرہ اورمکہ کے لیے تجارتی گودام کا درجہ رکھتی تھی۔

قدیم جدہ بندرگاہ
قدیم جدہ بندرگاہ

انہوں نے مزید کہا کہ "سال 646ء 28ھ کو جدہ کو اس وقت بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوئی جب عثمان بن عفان نے اپنی خلافت کے دوران الشعیبہ کی بجائے جدہ کو بندرگاہ قرار ریا۔ حضرت عثمان خود یہاں آئے۔ اس کے پانی میں غسل کیا۔ اس وقت اس سمندری حصے کو بحر اربعین کہا جاتا تھا۔

اموی دور میں جو سنہ 41 ہجری سے 132 ہجری (661 عیسوی سے 750 عیسوی) تک جاری رہا جدہ مکہ مکرمہ کے ساتھ منسلک تھا۔

قدیم جدہ بنرگاہ
قدیم جدہ بنرگاہ

عباسی دور میں جب تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو تو مسجد حرام کی توسیع بھی کی گئی۔ عباسی خلیفہ مہدی کے دور میں شام اور مصر سےسنگ مرمر مکہ لائے گئے جنہیں مسجد حرام میں استعمال کیا گیا۔ مملوک دور میں جدہ نے مزید ترقی کی اور یہ ایک بین الاقوامی بندرگاہ بن گئی۔ یہاں سے خلیج عرب، بھارت اور چین کو تجارتی قافلے روانہ ہوتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں