فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی اور فلسطینی وزراء کا ٹیلی فونک رابطہ، مغربی کنارے میں تشدد پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ اور ایک سینیر فلسطینی عہدہ دار نے منگل کے روز ٹیلی فون پر مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔گیلنٹ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے یہودی آباد کاروں کے فسادات کے خلاف اسرائیل کے کریک ڈاؤن کے ارادے کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے۔

اسرائیل کی مذہبی قوم پرست حکومت کی جانب سے یہ فون کال اور اس کی اشاعت ایک منفرد واقعہ ہے۔ اسرائیلی وزیر نے یہ فون کال مغربی کنارے کی صورت حال کے بارے میں امریکی تشویش کے اظہار کے بعد کی ہے۔

اسی ماہ کے اوائل میں مغربی کنارے کی ایک بستی کے باہر حماس کے مزاحمت کاروں کی فائرنگ سے چار اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد یہودی آباد کاروں کے گروہوں نے فلسطینی دیہات اور قصبوں پر کئی روز تک پرتشدد حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوّث ہونے کے شُبے میں 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گیلنٹ سے تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے عہدہ دار حسین الشیخ سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل حالیہ دنوں میں انتہا پسند عناصر کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر تشدد کے واقعات کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔گیلنٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل فسادیوں کو قانون کے مطابق مکمل سزا دے گا۔

حسین الشیخ کے دفتر کی جانب سے فوری طور پراس فون کال کے بارے میں کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔

گیلنٹ نے الشیخ کے ساتھ گفتگو میں مغربی کنارے میں قیام امن کو مشترکہ مفاد قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی فورسز نے گذشتہ 15 ماہ کے دوران میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف چھاپا مارکارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور جہاں بھی ضرورت پڑی ،وہ اپنی کارروائی جاری رکھیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں