حزب اللہ نے لبنانی فوجی بھرتی کرلیے، نگرانی کے کیمروں میں چھیڑچھاڑ کی: مغربی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مغربی ذرائع کے مطابق لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ لبنانی فوج کے علم کے بغیر ملک کے نگرانی کے کیمروں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے لیے لبنانی فوجیوں کو بھرتی کر رہی ہے تاکہ اسے سکیورٹی نظام اورآلات میں دراندازی میں مدد مل سکے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے لبنانی ریاست کے انٹیلی جنس آلات میں دراندازی کی ہے۔ ذرائع نے الحدث کو بتایا کہ حزب اللہ غیر قانونی طور پر جن آلات اور سازوسامان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی، ان میں سے کچھ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے مہیا کیے گئے تھے۔

اس صورت حال سے باخبر ذرائع نے الحدث کو بتایا کہ حزب اللہ نے ایچ ایم کے ابتدائی نام والے ایک لبنانی فوجی کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ اس گروپ کو ملک بھر میں سکیورٹی کیمروں تک رسائی میں معاونت مہیا کرے۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اس فوجی کا نام حمزہ شیخ تھا۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ حزب اللہ کا مقصد لبنانی فوج کو کمزور کرنا ہے جبکہ مغرب اس کی مالی اعانت اور اسے مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اس بات کو یقنی بنانا چاہتے ہیں کہ فوج ہی ملک میں ہتھیاروں کی واحد مالک ہے۔

ایک مغربی ذریعے نے مزید بتایا کہ حزب اللہ کا یہ ایجنٹ لبنانی فوج کے مزید افسروں کی بھرتی کے لیے کام کر رہا تھا۔ اب تک یہ گروپ لبنانی فضائیہ کے ایک افسر کو بھرتی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔اس کے نام کے ابتدائی حروف 'اے اے' ہیں۔

حزب اللہ سیل نے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ لبنانی بحریہ کے نگران کیمروں تک کامیابی سے رسائی حاصل کرلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کو دونوں کے ڈیٹا رومز تک رسائی حاصل ہے اور یہ سب کچھ لبنانی فوج کے علم کے بغیر ہوا ہے۔

امریکا اور کئی دیگر مغربی ممالک لبنانی فوج کی حمایت کے لیے برسوں سے کام کر رہے ہیں اور فوج لبنانی ریاست کا واحد ستون ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑی ہے۔لبنانی فوج کے لیے امریکی حمایت پر تنقید کی جاتی ہے اوراس کے بارے میں ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ حزب اللہ کے کنٹرول میں ہے لیکن اس کے باوجود امریکا اور یورپ نے اس ایجنسی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

جرمنی نے حال ہی میں لبنانی بحریہ کو تربیت دینے کے ایک پروگرام میں نصف ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔مغربی ذرائع نے الحدث کو بتایا کہ مغربی ہتھیاروں اور وسائل کو حزب اللہ کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آخری استعمال کنندہ کی مانیٹرنگ (ای یو ایم) کے طریقوں میں اضافہ کیا جائے اور فوج کے لیے سکیورٹی نظام نصب کرنے کے ذمے دار افراد اورکمپنیوں کی زیادہ محتاط انداز میں جانچ پڑتال کی جائے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج ای یو ایم کی تمام رپورٹنگ اور سکیورٹی تقاضوں پر مکمل عمل پیرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں