عرب کمیونٹی میں جرائم کی روک تھام کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں: شاباک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جنرل سیکیورٹی سروس ’’ شاباک‘‘کے سربراہ رونن بار نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی ایجنسی نے عرب کمیونٹی میں جرائم کی روک تھام کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جرائم سے نمٹنے کی کوششوں میں شاباک شامل ہے۔ تاہم شاباک کو کسی قانونی ترمیم کے بغیر اور موجودہ قانون کے فریم ورک کے اندر رہ کر کام انجام دینا ہے۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کان 11) نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ بار نے اس معاملے پر بحث کا فیصلہ کیااور شِن بیٹ (شاباک) کو شامل کرنے اور عرب کمیونٹی میں اپنی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک طرف انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی رائے کو قبول کیا جنہوں نے شن بیٹ سے مداخلت کی درخواست کی لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک خصوصی قانون بنانے سے انکار کر دیا جو عرب کمیونٹی میں انٹیلی جنس سروسز کو کام کرنے کی اجازت دے۔ بار نے یہ سمجھا کہ قانون میں ترمیم سیاسی مداخلت میں بدل سکتی ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل کے مطابق "شِن بیٹ" ان معاملات پر توجہ مرکوز کرے گی جن میں مجرم انفرادی کے ساتھ قومی جرم میں بھی ملوث ہوتا ہے۔ عدالتی اور سکیورٹی حکام نے "شِن بیٹ" کو مزید رول دینے کی کوششوں کی مخالفت کی تھی۔

c3
c3

کان 11 نے اطلاع دی ہے کہ اس میدان میں پولیس اور شن بیٹ کے درمیان تعاون کے ذرائع انسپکٹر جنرل آف پولیس اور شن بیٹ کے سربراہ کے درمیان ایک "ہاٹ لائن" کو فعال کرنے کی بنا پر ہوں گے۔ اس طرح ان معاملات کی نشاندہی کی جائے گی جہاں شن بیٹ یا شاباک کو بھی معاملات میں مداخلت کرنا ہوگی۔

شن بیٹ کے حکام عرب کمیونٹی میں جرائم کے خلاف جنگ میں شرکت کے لیے شرائط طے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے اسرائیل میں عرب کمیونٹی میں جرائم غیر معمولی طور پر بڑھ رہے ہیں۔ 2023 میں اس کی تعداد 2022 کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہو گئی ہے۔ شہری اسرائیلی پولیس کی جانب سے جان بوجھ کر غفلت برتنے کی شکایت کر رہے ہیں۔ صہیونی پولیس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عرب کمیونٹی کے افراد جرائم میں مبتلا ہوکر ایک دوسرے کو قتل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں