حزب اللہ ایئر ڈیفنس کے ایڈوانس روسی ساختہ میزائل حاصل کر سکتا ہے؛ اسرائیل کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی حکام سفارتی ذرائع سے لبنان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان خیموں کو خالی کرایا جائے جو حزب اللہ نے تقریباً دو ماہ قبل سرحد کی اسرائیلی کی دوسری جانب شبعا فارمز میں لگائے تھے۔

تل ابیب میں فوج کی کمان کے ذرائع نے اعلان کیا کہ حزب اللہ کے فضائی دفاع کے تصور اور اس کے پاس موجود ایئر ڈیفنس سسٹمز کی تعداد کو دوگنا کرنے کے بارے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ یہ تبدیلی لبنان میں اسرائیلی فضائیہ کی آزادی کو محدود کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ "حزب اللہ" نے روسی "SA-8" اور "SA-22" فضائی دفاعی نظام حاصل کر لیے ہیں، جو کہ "حزب اللہ کے سٹریٹجک تصور میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد لبنان کے اندر اسرائیلی کارروائی کی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

عبرانی اخبار "معاریف" کے مطابق ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ "حزب اللہ" نے گذشتہ پانچ سال کے دوران اپنے پاس موجود فضائی دفاعی نظاموں کی مقدار کو دوگنا کر دیا ہے اور یہ دفاعی نظام بنیادی طور پر جدید ایرانی نظاموں پر مبنی ہے۔

اس نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے وعدوں کے مطابق "حزب اللہ کی ان صلاحیتوں میں بہتری مستعدی سے جاری ہے، اور انہیں تیزی سے استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔"

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ اگست 2019 میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کے مرکز میں واقع ایک عمارت میں ایک تنصیب پر اسرائیلی ڈرون کے حملے سے نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی دعوے کے مطابق یہ عمارت "حزب اللہ" کے گڑھ میں میزائلوں کی درستگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔

اس کے علاوہ یہ"حزب اللہ" کی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ ہے۔ حزب اللہ نے یہ دھمکی دو ماہ بعد دی تھی جب اس نے اسرائیل کے ہرمیس 450 ڈرون پر SA-8 میزائل داغا۔ یہ ایک جاسوس ڈرون تھا، تاہم حزب اللہ کی طرف سے داغا گیا میزائل ہدف سے چوک گیا تھا۔

اخبار نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج نے اس گاڑی کی نشاندہی کر لی تھی جس سے میزائل داغا گیا تھا۔ اسے نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم اسرائیلی حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج اس واقعے کو مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتی ہے کیونکہ اس نے حسن نصر اللہ کو دیگر میدانی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی۔

اس کے بعد حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی ڈرون کو مار گرانے کی 3 کوششیں کی گئیں۔ اخبار کے مطابق اس کے بعد اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا تاہم پھر اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے سے ہٹا دیا۔

اخبار نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے حالیہ برسوں میں ان سہولتوں کو کئی بار نشانہ بنایا ہے اور انہیں بہت نقصان پہنچایا ہے، لیکن ان کو بہتر بنانے اور ہتھیاروں کی مقدار اور معیار کو بڑھانے کا کام ایران اور حزب اللہ کے فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے عزم اور استقامت کی نشاندہی کرتا ہے۔ "

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں