غزہ کی مسلسل ناکہ بندی پر عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل پر ہرجانے کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی قانون ساز کونسل نے غزہ پر 17سال سے اسرائیل کی مسلط کی گئی ناکہ بندی پر تل ابیب کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں ایک نیا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اگرچہ عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی طرف سے سیاسی نوعیت کے مقدمات پہلے بھی قائم کیے گئے ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے جب مقدمے میں مالی معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت میں دائر مقدمے میں اسرائیل پر غزہ کے محاصرے کے دوران "نسل پرستی" کے جرم کے علاوہ "سوچے سمجھے قتل" کے جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔ قانونی شکایت میں عالمی فوجداری عدالت سے غزہ کی پٹی پر17 سال سے مسلط کردہ اسرائیلی محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی دو عشروں پر مشتمل ناکہ بندی نے غزہ میں عام شہریوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس ناکہ بندی کے نتیجے میں شہریوں کے مادی نقصان کی تلافی کرنے کے لیے اسرائیل پر ہرجانہ عاید کیا جائے۔

پچیس ارب ڈالر ہرجانہ

فلسطینی قانون ساز کونسل کی رکن ہدٰی نعیم کے مطابق ناکہ بندی کے برسوں کی اقتصادی لاگت پر مبنی مطلوبہ معاوضہ جس میں طویل بندشیں، شدید اقتصادی پابندیاں، فوجی کارروائیاں اور آبادی کو پہنچنے والے نقصانات شامل ہیں اور ان کا تخمینہ 25 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

قانون ساز کونسل اور بین الاقوامی وکلاء نے مقدمے کے کاغذات بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے حوالے کرنے کی ذمہ داری غزہ کی ناکہ بندی پر اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کی کانفرنس "UNCTAD" کی رپورٹ پر انحصار کیا، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مجموعی اقتصادی 2018 تک اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 16.7 ارب ڈالر تھی اور اس اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرنے سے یہ رقم 25 بلین ڈالر بنتی ہے۔

فوٹو انڈیپنڈینٹ عربیہ
فوٹو انڈیپنڈینٹ عربیہ

قانونی شکایت کے مطابق اسرائیل کو عدالت میں متاثرین کے معاوضے کے فنڈ میں معاوضہ ادا کرنا ہو گا، جسے "ٹرسٹ فنڈ" کہا جاتا ہے۔

"تمام شواہد اسرائیلی جرم کو ثابت کرتے ہیں، لیکن نئی بات یہ ہے کہ فلسطینی معاشی معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ بین الاقوامی فوج داری عدالت اسرائیل پر سیاسی پابندیاں نہیں لگا سکتی"۔

یہ پہلا موقع ہے جب فلسطینیوں نے غزہ پر جنگی حملوں اور سرحد پر احتجاج کرنے والے پرامن مظاہرین پر حملوں کے رد عمل میں سیاسی پابندیوں کے بعد بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے قانونی چارہ جوئی کرنے کےلیے اقتصادی پہلو اختیار کیا ہے۔

تلافی کیسے ہو گی؟

قانون ساز کونسل میں فریڈمز کمیٹی کی سربراہ ھدیٰ نعیم نے کہا کہ معاوضہ فلسطینی عوام کا حق ہے، اگر ہم ان گھروں کی تعداد کا مطالعہ کریں جو بجلی کی بندش کی وجہ سے موم بتیاں جلانے کی وجہ سے جل گئے، علاج کے حصول کے لیے سفر کرنے سے روکنے کے نتیجے میں کتنے بچے ہلاک ہوئے، نقل وحرکت کی آزادی چھن جانے سے کتنے ہی لوگ جان سے گئے، یہاں تک کہ ذہنی امراض کا شکار افراد کو بھی غزہ سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان سب واقعات کو سامنے رکھ کر معاوضے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تل ابیب نے "غزہ کی پٹی کو ایک ناقابل رہائش جگہ میں تبدیل کر دیا ہے، معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور آبادی کو منتشر کرنے میں کردار ادا کیا ہے، غزہ اور باقی فلسطینی علاقوں کو الگ تھلگ کرنا اسرائیل کی ایک سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔"

ناکہ بندی کے برسوں کے دوران اسرائیل نے غزہ میں 5,600 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا، جن میں سے 23 فیصد بچے تھے۔تقریباً 3,200 تجارتی اداروں اور 557 کارخانوں کو تباہ کرنے کے علاوہ 14,000 مکانات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ بمباری کے نتیجے میں 41,000 سے زائد کو گھروں کو جزوی طور پر تباہ کیا گیا۔ علاج کے لیے سفر کرنےکی مریضوں کی درخواستوں پر پابندیاں لگائی گئیں اور اس نوعیت کی ایک تہائی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا۔

فوٹو انڈیپنڈینٹ عربیہ
فوٹو انڈیپنڈینٹ عربیہ

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق غزہ کی ناکہ بندی انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک شکل ہے، خاص طور پر لاکھوں فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی اور ظلم و ستم کا جرم ہے۔ ھدیٰ نعیم نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل اجتماعی سزا کی پالیسی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ غزہ تنازعے پر اقوام متحدہ کے ٹروتھ فائندنگ مشن کی رپورٹ (گولڈ اسٹون رپورٹ) میں کہا گیا ہے کہ "یہ ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سزا اور ظلم و ستم کی شکل ہے۔"

خیال رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر سنہ 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی کے بعد پابندیاں عاید کردی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں