’نیتن یاہو کے قتل کا دھمکی آمیز پیغام ان کے بھائی کی قبر پر رکھا گیا تھا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی انٹیلی جنس جمعہ کے روز وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے نام قتل کی دھمکی پر مشتمل پیغام سامنے لائی ہے۔

دھمکی دینے والے نے یہ پیغام ان کے بھائی یونی نیتن یاہو کی قبر پر رکھا تھا جسے 47 سال قبل ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یونی کو ایک فوجی آپریشن کے دوران یوگنڈا کے اینٹبی ہوائی اڈے پر اترنے والے ہائی جیک طیارے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے مشن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم اپنے بھائی یونی کی سرکاری یادگاری خدمت میں حصہ لینے کے لیے قبر پر آئے، جنہیں نیتن یاہو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ مغربی یروشلم میں ماؤنٹ ہرزل پر واقع قبر کے دورے سے پہلے ایک باقاعدہ سکیورٹی چیک کے دوران شن بیت (جنرل انٹیلی جنس سروس) کو ایک پیغام ملا جس میں نیتن یاھو کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ شن بیت نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پچھلے ہفتے شن بیت نے بیس سالہ ایک یہودی شہری کو بیت شیمش شہر سے گرفتار کیا تھا۔ اس پر نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی دینے والا پیغام بھیجنے کا شبہ ہے۔

گرفتار نوجوان نے واٹس ایپ پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں س نے ’’ہر کوئی ہتھیار اٹھائے اور نیتن یاھو کو سر میں گولی مارے۔ جو کوئی ہتھیار خریدنا چاہتا ہے اسے یہ پیغام دینا چاہیے کہ قانون ہماری زندگیوں کے بارے میں ہے اور ہم ملزم نہیں ہیں‘‘۔

پولیس ابھی بھی معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ہفتے قبل نیتن یاہو کے والد مورخ بین زیون نیتن یاہو کی یادگار پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ وہاں پر لٹکائے گئے بینر پر لکھا تھا کہ ’’ایک ناکام اور کرپٹ آمر کا باپ‘‘۔ نیتن یاہو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ایک حقیر شخص ہے جس نے میرے والد کی قبر کی بے حرمتی کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان مجرموں سے کہیں کہ یہ غیر اخلاقی حرکتیں بند کریں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں