مصنوعی ذہانت کے لیے حکومتی حکمت عملی کے انڈیکس میں سعودی عرب دنیا میں پہلے نمبر پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصنوعی ذہانت کے لیے حکومتی حکمت عملی کے انڈیکس میں سعودی عرب دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے مملکت کی یہ پیش رفت ٹورٹوائز انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کردہ مصنوعی ذہانت کی عالمی درجہ بندی کے اشاریے میں سامنے آئی ہے۔

کمپنی نے دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں مصنوعی ذہانت میں حکومتی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ اس انڈیکس میں جرمنی دوسرے اور چین تیسرے نمبرپر ہے۔

مصنوعی ذہانت کی عالمی درجہ بندی سات اشاریوں کے اندر 100 سے زیادہ معیارات کی پیمائش کرتی ہے۔ حکومتی حکمت عملی، تحقیق اور ترقی، قابلیت، بنیادی ڈھانچہ، آپریشنل ماحول، تجارت شامل ہیں۔

سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے لیے حکومتی حکمت عملی کے اشاریے میں پہلا مقام حاصل کیا ہے اور جاری کردہ درجہ بندی کے کل اشاریے میں مملکت 31 ویں نمبر پر ہے۔ ٹورٹوائز ایک عالمی کمپنی ہے جو دنیا بھر کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ماہرین کے ایک بورڈ پر مشتمل ہے۔

مملکت نے انڈیکس کے معیار میں 100 فی صد نمبر حاصل کیے جن میں سب سے نمایاں ایک قومی حکمت عملی کی موجودگی ہے جو کہ مملکت میں مصنوعی ذہانت کے لیے وقف اور منظور شدہ ہے۔ سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے لیےایک سرکاری ایجنسی قائم کی گئی ہے اور اس کے لیے فنڈز مختص ہیں۔

سعودی عرب کو شروع ہی سے مصنوعی ذہانت میں دلچسپی رہی ہے۔ 1440ھ میں سعودی عرب کی حکومت کی طرف سےاس حوالے سے ایک ادارے کے قیام کے لیے ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا تھا۔ اس شاہی فرمان کے تحت’ سعودی اتھارٹی برائے ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘[SADAIA] کا قیام عمل میں لایا گیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ’سدایا‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں۔ ان کی خواہش پر سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مصنوعی ذہانت کا ڈیٹا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا اور اسے سعودی عرب کی قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں