اسرائیل نے ’’1948ء کے فلسطین‘‘ میں 3 دیہات کو مسمار کرنے کی منظوری دیدی

صہیونی وزیر نے اسرائیلی عرب علاقے فلسطینیوں میں تعدد ازدواج کو روکنے کے لیے خصوصی کورس ترتیب دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے ’’ 1948 کے فلسطین‘‘ کے علاقے نقب میں عرب آبادی پر مشتمل تین دیہات کو مسمار کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ ’’ 1948 کے فلسطین‘‘ یا حالیہ اسرائیل کے اصل باشندوں کے خلاف یہ نیا منصوبہ فلسطینیوں کو اپنے ہی وطن سے جلا وطن کرنے کے پروگراموں میں سے ایک ہے۔

شمالی اسرائیل میں نقب کے علاقے کی آبادی کو یہودیانے یا یہاں کی آبادی کو یہودی اکثریت میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے نئے صہیونی منصوبے میں فلسطینیوں کو اراضی اور مکانات سے محروم کر کے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔ اس علاقے میں پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر فلسطینی آبادی کو زمینوں سے محروم کرکے نقل مکانی پر مجبور کیا جا چکا ہے۔ قدیم فلسطینی اب صرف اس علاقے کی تین فیصد زمین پر قابض ہیں۔

یہ منصوبہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بیرون اسرائیل بسنے والے یہودیوں کے معاملات کے نگران وزیر امیچائی شکلی نے تیار کیا تھا جس نے منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نقب میں فلسطینی 25 سال کے اندر پورے نقب کو کنٹرول کر لیں گے کیونکہ فلسطینیوں کی آبادی میں اضافہ بہت زیادہ ہے اور جلد ہی یہ اس خطے میں فلسطینیوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 7 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

اسرائیلی وزیر نے اس علاقے کے بدو عربوں کی آبادی کو صہیونی ریاست کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کے قیام سے قبل 1948 عیسوی کے فلسطین کے اصل فلسطینی باشندوں اور نقب کے قصبوں کے رہنماؤں نے اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مذاکرات کرے۔ نقب کے رہنماؤں نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ نقب کے قدیم اور اصل باشندوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے اپنے منصوبے کو ’’ نقاط‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نقب کے تین فلسطینی دیہات کی مسماری کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کی جگہ یہودی آبادی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جلد از جلد شروع کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت مخصوص مقامات کی نشاندہی کرکے یہودی قصبوں کو پھیلایا جائے گا اور ان آبادیوں میں مزید یہودیوں کو لاکر بسایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت نقب میں 13 یہودی بستیاں تعمیر کی جائیں گی اور درجنوں فلسطینی دیہات کو ختم کردیا جائے گا۔

اس منصوبے میں میں رھط کے جنوب کا علاقہ بھی شامل ہے۔ یہ علاقہ تاریخی طور پر "کرکور" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اسے علاقے کا نام تبدیل کرکے "دودیم اور مشمار ہنگیف" کے علاقے کا نام دے دیا ہے۔

حورہ کا علاقہ

اسرائیلی وزیر شیکلی کے منصوبے کے تحت حورہ کا علاقہ میں مشرق تک، خاص طور پر علاقے کے مشرق میں واقع وادی تک کے علاقے کو فوجی علاقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان علاقوں کو خالی کرکے فوجی مشقوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہاں کے تمام باشندوں کا انخلا کرکے یہاں بھی ایک یہودی قصبہ کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔

کحلہ اور مکحول کا علاقہ

اسرائیلی منصوبے میں کحلہ اور مکحول کا علاقہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس علاقے کو اسرائیل نے ’’ مرعیت‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ اس علاقے سے تمام فلسطینیوں کو نکال دیا جائے گا۔

عراد اور تل عراد اور الدھینیہ کے علاقوں میں آباد فلسطینی بھی اسرائیلی منصوبے کی زد میں آئیں گے۔ ان علاقوں میں غزہ سے آکر فلسطینی افراد آکر آباد ہوئے تھے۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب غزہ سے اسرائیلی فورسز کو نکال دیا گیا تھا۔ اسی طرح منصوبے میں بئر السبع شہر کے جنوب کے رہائشی بھی شامل ہیں۔

بڑے چیلنجز

لوکل اتھارٹیز فورم نے 1948ء کے فلسطینیوں کے لیے سپریم فالو اپ کمیٹی کے چیئرمین محمد براکا اور نقب سے تعلق رکھنے والے کنیسیٹ کے اراکین کی موجودگی میں ان تمام نکات پر تبادلہ خیال کیا جو ان کی جلاوطنی کا مقابلہ کرنے کے ان کے منصوبے میں شامل ہوں گے۔

ہڑتالیں اور احتجاج

نقب کے علاقے میں تقریباً 300 فلسطینی رہتے ہیں جن میں سے تقریباً 28 فیصد غیر تسلیم شدہ قصبوں میں رہتے ہیں۔ فلسطینیوں کے وہاں رہنے والے

سخت اور غیر انسانی حالات کی روشنی میں اس خطے میں فلسطینیوں نے حالیہ برسوں میں ہڑتالوں، مظاہروں اور احتجاج کا ایک طویل سلسلہ برپا کیا ہے۔ حکومت کی پالیسی کے ردعمل میں مظاہرے شروع ہوئے۔

اس بار وسیع پیمانے پر ہونے والا احتجاج تین دیہاتوں کو منہدم کرنے کے منصوبے کے خلاف ہو گا۔ خدشہ ہے کہ یہ حالیہ منصوبہ اس فلسطینی علاقے کی مکمل نقل مکانی کا آغاز ہو گا۔

نقب کے فلسطینیوں کے لیے اعلیٰ انتظامی کمیٹی کے سربراہ جمعة الزبارقہ نے کہا کہ نقب کے فلسطینیوں کو اپنے باپ دادا اور دادا کی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے اور ان کے طرز زندگی کو یکسر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بدو طرز زندگی کے مطابق یہ افراد مویشیوں کی افزائش اور زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔

تعدد ازدواج پر پابندی

نقب اور الجلیل ہو یا کوئی اور فلسطینی علاقہ اسرائیل ان علاقوں کو یہودی رنگ میں رنگنے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ فلسطینیوں کے مکانات منہدم کیے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں یہودی بستیوں کو آباد کرنے کے منصوبے ہیں۔ اس حوالے سے ایک منصوبہ یہ بنایا گیا کہ عرب خاندانوں کی بڑھتی آبادی کو روکنے کے لیے تعدد ازدواج کی ممانعت کردی جائے۔

’’1948 کے فلسطین ‘‘ میں آباد فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ بھی اسرائیل کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ خواتین کی شرح پیدائش نہیں بلکہ تعدد ازدواج کے رجحان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بھی انتہا پسند اسرائیلی وزیر شکیلی نے خطے میں اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے فلسطینی آبادی کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے نقب میں تعدد ازدواج کو روکنے کے لیے ایک خصوصی کورس ترتیب دیا ہے تاکہ عربوں کی تعداد میں اضافے کو روکا جا سکے۔ شکیلی نے اس منصوبے کی تفصیل بتانے سے گریز کیا لیکن واضح کیا کہ مقصد کی روشنی میں یہ ضروری تھا کہ اسرائیل میں یہودیوں کی اکثریت کو یقینی بنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں