جنین میں اسرائیل کا بڑھتا ہوا تشدد مزید کشیدگی کا باعث بنے گا: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی وزارت خارجہ نے آج پیر کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی مسلسل بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جن میں سے تازہ ترین آج صبح جنین شہر پر کی گئی تھی۔

ایک بیان میں، وزارت نے "تشدد کی لہر کے تسلسل سے خبردار کیا، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ "صرف مزید بگاڑ اور تشدد کا باعث بنے گا۔"

واضح رہے کہ آج صبح اسرائیل نے جنین شہر اور اس کے پناہ گزین کیمپ میں فوجی آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں فلسطینی اطلاعات کے مطابق چار افراد شہید اور اٹھائیس فلسطینی زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فورسز نے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دوسری بار مغربی کنارے کے شہر جنین پر رات کے وقت ڈرون حملہ کیا ہے۔

حملے کے چند گھنٹوں بعد شہر بھر میں گولیوں اور بموں کی آوازیں سنائی دیں اور ڈرون نچلی پرواز کرتے رہے۔

فلسطینی گروپ جنین بریگیڈ نے کہا کہ وہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہے۔

ڈرون طیارے

کم از کم چھ ڈرونز کو شہر اور گنجان آباد کیمپ پر اڑتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں تقریباً 14,000 رہائشی آدھے مربع کلومیٹر سے بھی کم علاقے میں رہتے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی کہ اس جارحیت کے نتیجے میں، جنین میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جب کہ ایک اور شخص رام اللہ میں ایک چوکی پر سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی افواج نے جنین بریگیڈ کے بندوق برداروں کے ایک کمانڈ سینٹر پر بمباری کی ہے، جسے اس نے "مغربی کنارے میں دہشت گردی سے نمٹنے کی بھرپور کوششوں" کے طور پر بیان کیا ہے۔

ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کے پیمانے اور زمینی افواج پر دباؤ کا مطلب ہے کہ اس طرح کی کاروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں