اسرائیل نے جنین میں فوجی کارروائی کو"گھر اور باغ آپریشن" کا نام دینےسےگریز کیوں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں فوجی اور سیاسی حکام نے غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے کیمپ میں جاری فوجی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے "فوجی آپریشن" کے لیے’باغ اور گھر‘ کی اصطلاح سے گریز پر زور دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نےکہا ہے کہ فوج نے اس آپریشن کو "گھر اور باغ" کا نام دیا تھا لیکن اس نے اسے فوری طور پر واپس لے لیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج جنین میں "غیر معینہ سرگرمی" کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جان بوجھ کر یہ نام دیا ہے جس میں ’آپریشن‘ یا کارروائی سے گریز کیا گیا ہے۔

اسرائیلی سیاست دانوں نے جنین میں ہونے والی کارروائیوں کوغیراہم قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی سکیورٹی کمیٹی کی سطح پر نہیں بلکہ سکیورٹی سروسز کی سطح پر لیا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے آج اعلان کیا ہے کہ جنین پر بڑے پیمانے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دس افراد مارے گئے۔ وزارت صحت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ اکاؤنٹ پر کہا کہ اسرائیلی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں 100 کے قریب زخمی بھی ہوئے جن میں 20 کی حالت تشویشناک ہے۔

عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ "ہم کوئی آپریشن نہیں کر رہے ہیں۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی سے بات کرنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلیوں نے ان پر بین الاقوامی دباؤ کو دور کرنے کی کوشش میں "آپریشن" یا "حملہ" کی اصطلاح کو واپس لے لیا ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار شاکر شبات نے کہا کہ "اسرائیل نے 'باغ اور گھر' آپریشن کی اصطلاح کو واپس لے لیا ہے، کیونکہ اسے علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل کی توقع ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی ایک گنجان آباد شہری کیمپ کے خلاف شروع کی ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ سرگرمی عام شہریوں کی موت کا سبب بنے گی۔ اور نہتے لوگ اس کارروائی میں مارے جا سکتے ہیں۔

شبات کے مطابق اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کارروائی کے لیے اصطلاحات کو نرم کر کے غزہ کی پٹی میں تصادم میں داخل ہونے سے گریز کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں