جنین کیمپ کےاطراف میں اسرائیلی فوج کے ایک ہزار ایلیٹ اہلکار تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہر جنین میں قائم پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کی چڑھائی کا آج دوسرا دن ہے۔

جنین کیمپ میں اسرائیلی فوجی کارروائی جاری ہے۔ منگل کی صبح سویرے اسرائیلی فوجی کمک کے داخلے کے ساتھ جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ ایلیٹ کور کے تقریباً 1000 اسرائیلی فوجی کیمپ کے قرب و جوار میں تعینات ہیں۔

گرفتاریاں

نامہ نگار کے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے بری دستوں کی تعیناتی کے بعد انہیں فضائیہ می معاونت فراہم کی گئی ہے اور ہیلی کاپٹر مسلسل اس علاقے کی فضا میں نچلی پرازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریں اثنا تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ان خاندانوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کیمپ سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی فورسز نے علاقے کے قرب و جوار میں دوبارہ جھڑپوں کے ساتھ گرفتاریوں کی بھی تردید کی۔

قبل ازیں تل ابیب نے اعلان کیا تھا کہ تمام تر ثالثی کے باوجود جنین میں آپریشن کا عمل جاری ہے۔ ہم اس آپریشن کو جاری رکھنے کے لیےآزاد ہیں اور کسی ٹائم شیڈول کے پابند نہیں۔ ساتھ ہی اسرئیلی فوج نے آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔

کیمپ کے اندر دھماکہ خیز آلات کی وجہ سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ کئی مقامات پر ہونے والی جھڑپوں کےساتھ آج غرب اردن میں احتجاجی مظاہروں کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

جنین حملے کی شدید مذمت

عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) ،خلیجی تعاون کونسل ( جی سی سی) اور عرب ممالک نے پیر کو مغربی کنارے کے فلسطینی شہر جنین میں فلسطینیوں کے خلاف ’ضرورت سے زیادہ فوجی طاقت کے استعمال‘ کی مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ’وہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کو رکوائے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے‘۔

او آئی سی نے فلسطینی شہر جنین میں قابض اسرائیلی افواج کے نہتے شہریوں پر مظالم کی مذمت کی۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے جنین کیمپ کے اندر اور مضافات میں متعدد مقامات کو میزائلوں اور جارحانہ ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں