سزا پر عمل درآمد، الاحساء میں مسجد کو دھماکے سے اڑانے والے دہشت گردوں کا کیس کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں الشرقیہ صوبہ میں 5 مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا۔ یہ ایک مصری شہری طلحہ ہشام محمد عبدہ اور چار سعودی شہری احمد بن محمد بن احمد عسیری، نصار بن عبداللہ بن محمد الموسیٰ، حمد بن عبداللہ بن محمد الموسیٰ اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز التویجری تھے۔

ان مجرموں کو کس کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے 1437 ہجری میں الاحساء گورنری میں ایک مسجد کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتابا کہ 19 ربیع الثانی 1437 ہجری کو دو خودکش حملہ آوروں کو اس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ الاحساء گورنری میں المحاسن محلے میں واقع مسجد ’’ الرضا‘‘ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان پر دہشت گردی کے اس گھناؤنے فعل کی جاری تحقیقات کے نتیجے میں خودکش حملہ آور کی شناخت عبد الرحمن بن عبد اللہ بن سلیمان التویجری کے طور پر کی گئی۔ اس کی عمر 22 سال ہے۔

اس دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد سعودی وزارت داخلہ نے الاحساء گورنری کے المحاسن محلے میں واقع الرضا مسجد کے واقعہ میں دوسرے خودکش حملہ آور کی شناخت کا اعلان کیا جہاں اسے خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کی شناخت طلحہ ہشام کے نام سے کی گئی ۔ یہ ایک مصری شہری تھا۔ یہ 31 جولائی 2013 میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سعودی عرب آیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کہ خودکش حملہ آور طلحہ ہشام جب ہسپتال میں بیدار ہوا تو اس نے سیکیورٹی حکام کو اپنا نام بتایا ۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے ساتھ مل کر اس کی شناخت کی تصدیق کے لیے فوری طور پر تلاشی لی گئی اور تحقیقات کی گئیں۔

خودکش حملہ آور طلحہ مسجد میں گھس آیا تھا۔ خودکش حملہ آور عبدالرحمن نے مسجد کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی۔ اس نے مسجد کے اندر فائرنگ کی۔ ایک نمازی نے پیچھے سے اس پر لوہے کی کرسی سے حملہ کیا تو وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور نمازیوں اور سکیورٹی والوں نے اس پر قابو پالیا۔

مسجد کے اندر بجلی کی اچانک بندش کے نتیجے میں ہونے والے اندھیرے نے خودکش حملہ آور کو منتشر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس طرح ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔

نصار الموسیٰ، حمد الموسیٰ اور احمد کو ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان نے 20 ستمبر 2016 کو بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے دہشت گردوں کی نگرانی کرتے ہوئے مزید دہشتگردوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا ہے۔ کئی مہینوں تک کارروائی کرکے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ افراد داعش سے منسلک تھے۔

انہیں دہشت گرد تنظیم "داعش " سے منسلک تین کلسٹر سیلوں پر مشتمل ایک دہشت گرد نیٹ ورک کو چلانے کا کام تفویض کیا گیا تھا۔ انہیں مختلف مقامات پر شہریوں، سائنسدانوں، سکیورٹی اہلکاروں اور فوجی اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ یہ نیٹ ورک دہشتگردوں کو دھماکہ خیز بیلٹ اور دھماکہ خیز آلات سے لیس کرتا تھا۔ دہشتگردوں کو مجرمانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے کے لئے ضروری نقشے فراہم کرتا اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں