شامی گینگ کا سرغنہ تارکینِ وطن اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوروپول نے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کے سربراہ شامی گینگ کے سرغنہ کو مشرق اوسط کے راستے یورپ میں 200 سے زیادہ تارکین وطن کی منتقلی کے علاوہ منشیات اور آتشیں اسلحہ کی اسمگلنگ سے متعلق الزامات میں گرفتار کیا ہے۔

عالمی تحقیقات کے بعد شامی شہری کو گینگ کے 14 دیگر ارکان کے ساتھ اسپین میں گرفتار کیا گیا ہے۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورک ممکنہ طور پر 2017 سے فعال تھا اور یہ یورپی یونین اور مشرق اوسط کے متعدد ممالک میں قائم تھا اور شام سے غیر قانونی تارکین وطن کو یورپی یونین میں اسمگل کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر طویل اور مہنگا راستہ استعمال کرتا تھا۔

شام سے شروع ہونے والے مہاجرین کو سوڈان یا متحدہ عرب امارات کے راستے لیبیا لے جایا گیا۔انھیں بحیرہ روم کے راستے یورپ جانے سے پہلے لیبیا سے الجزائر لے جایا گیا تھا۔اس سفر کے آخری مرحلے میں مشتبہ افراد نے مغربی بحیرہ روم کے راستے اسپین میں غیر قانونی داخلے میں سہولت مہیا کی تھی۔

شامی شہریوں کو عام طور پر مشرقی بحیرۂ روم کے راستے ترکیہ سے یونان اسمگل کیا جاتا ہے۔اگرچہ کچھ غیر قانونی تارکین وطن اسپین میں ہی رہے ، لیکن ہسپانوی ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہونے والے زیادہ تر افراد کی آخری منزل فرانس ، بیلجیئم ، جرمنی اور ناروے ہوتی ہے۔

یوروپول کی قیادت میں کارروائی کے نتیجے میں 13 مقامات کی تلاشی لی گئی، 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، اور مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق اشیاء کا ذخیرہ ضبط کیا گیا۔ ان میں دو اسپیڈ بوٹس، چھے گاڑیاں، الیکٹرانک آلات (لیپ ٹاپ اور ایک ٹیبلٹ، جی پی ایس ڈیوائس، اسٹوریج ڈیوائسز)، منشیات، ایندھن، فون (42 سیل فون اور دو سیٹلائٹ فون) اور 540،000 ڈالر نقد رقم اور دستاویزات شامل ہیں۔

یہ نیٹ ورک نو ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔ایک شامی مشتبہ شخص کی سربراہی میں قائم اس جرائم پیشہ نیٹ ورک نے بحری راستے سے متصل ممالک بالخصوص لبنان، سوڈان، لیبیا اور الجزائر میں وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھایا۔ملزمان نے کم از کم 200 تارکین وطن کو شام سے سوڈان یا متحدہ عرب امارات کے راستے اسمگل کرنے کا انتظام کیا تھا۔

لیبیا میں اسمگلروں نے الجزائر منتقلی کے لیے بدعنوان حکام کو استعمال کیا، جہاں سے تارکین وطن کو تیز رفتار کشتیوں پر اسپین پہنچایا گیا۔ یورپ میں، بیلجیئم، جرمنی اور اسپین میں قائم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے ارکان نے سمندری گذرگاہوں کو مربوط کیا اور منزل کے ممالک میں ثانوی نقل و حرکت کی سہولت مہیا کی۔ملزمان نے اس سفر کے لیے فی کس 7600 سے 21800 ڈالر وصول کیے تھے۔

جرائم پیشہ نیٹ ورک نے اس پورے سفر کے لیے لاجسٹکس کی سہولت مہیا کی ، جس میں نقل و حمل ، کچھ ممالک میں کاغذی کارروائی ، فضائی ٹکٹ اور روٹ کے ساتھ رہائش شامل ہے۔ 'وی آئی پی سروس' کی قیمت 21,800 ڈالر تک ہے،اس میں ہسپانوی مین لینڈ پر آمد کے مقام سے منتقلی اور اسپین میں رہائش جیسی خصوصی اضافی خدمات شامل تھیں۔

جرائم پیشہ نیٹ ورک نے اپنی غیر قانونی کارروائیوں کے کامیاب نتائج کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے۔ مشتبہ افراد نے ساحل کے ساتھ متعدد خفیہ مقامات پر جسمانی اور ویڈیو نگرانی کی تھی جہاں غیر قانونی تارکین وطن کو لانے کی توقع تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں