آئی سی سی پراسیکیوٹرکی فلسطین کی صورت حال پر نظر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں صہیونی فوج کے بڑے پیمانے پر آپریشن کے بعد بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) کے پراسیکیوٹر فلسطین کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ہیگ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل نے 2021 میں اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔اس کی تحقیقات کے دائرہ کار میں اسرائیلی افواج اور حماس اور فلسطینی مسلح گروہوں کے مبیّنہ جرائم بھی شامل ہیں۔

اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں اور وہ اس سے تحقیقات میں تعاون کرنے یا اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم خان کے دفتر نے اے ایف پی کو بتایا کہ دفتر استغاثہ (او ٹی پی) فلسطین کی صورت حال اور پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ او ٹی پی کی جاری تحقیقات سے متعلق ہیں۔

پراسیکیوٹر کے دفتر نے آئی سی سی کی تحقیقات پر مزید کوئی تبصرہ یا تازہ معلومات فراہم نہیں کیں۔اس کی تحقیقات میں غزہ میں 2014 کی جنگ سے متعلق ممکنہ جرائم کا احاطہ کیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی پشت پناہی سے کی جانے والی اس تحقیقات نے اسرائیل کو مشتعل کر دیا ہے۔

دریں اثناء فلسطینی گروپوں نے آئی سی سی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات میں تیزی لائے، جو یوکرین اور دیگر جنگی علاقوں کے بارے میں کم مالی اعانت والی عدالت کی تحقیقات کے خلاف وسائل کے حصول کے لیے مقابلہ کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اپنی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔اس میں گذشتہ دو روز کے دوران میں 12 فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا تھا۔

اسرائیلی فوج کے سیکڑوں اہلکاروں نے ڈرونز اور بکتر بند بلڈوزروں کے ساتھ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کو نشانہ بنایا تھا۔یہ شہر متعدد مسلح فلسطینی گروپوں کا مرکز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں