تیل کی پیداوارمیں کمی کے فیصلے میں ’اوپیک پلس‘ کا کردار ہے: سعودی وزیر توانائی

عالمی توانائی ایجنسی کےبیانات اور جائزے مارکیٹ میں عدم توازن کا باعث بنتے ہیں: شہزاہ عبدالعزیز بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کو برقرار رکھنے میں "اوپیک+" کردار ادا کرتا ہے، سعودی عرب نہیں۔

ویانا میں اوپیک کے آٹھویں بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے توانائی کی منڈیوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر توانائی نے کہا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار اور جائزے مارکیٹ میں عدم توازن کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ روسی برآمدات کو کم کرنا ایک رضاکارانہ فیصلہ تھا اور ان پر مسلط نہیں کیا۔

سعودی عرب نے گذشتہ پیر کو کہا تھا کہ اس سے اگست تک روزانہ ایک ملین بیرل کی رضاکارانہ پیداوار میں کمی میں اگست تک کے لیے توسیع کی گئی ہے۔ جبکہ روس نے اسی مہینے میں پیداوار اور برآمدات کی سطح کو روزانہ پانچ لاکھ بیرل اور الجیریا نے 20 ہزار بیرل کمی کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت پیداوار میں کٹوتی فی دن 5 ملین بیرل سے زیادہ ہے جو کہ تیل کی کل عالمی پیداوار کا 5 فی صد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں