امارات کے وزیر برائے خارجہ امور کا انٹونی بلینکن سے ٹیلی فونک رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے اپنے اماراتی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے شام میں سرحد پار امداد کی اجازت میں ایک اور توسیع دینے کا مطالبہ کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے ان کی کال کے ریڈ آؤٹ میں کہا کہ سیکریٹری آف سٹیٹ انٹونی بلینکن اور شیخ عبداللّٰہ بن زاید آل نہیان نے یمن میں قیام امن کے لیے امریکا اور متحدہ عرب امارات کے عزم پر بھی بات چیت کی۔

بلینکن کے گزشتہ ماہ خطے کے دورے کے دوران یمن ایک اہم موضوع تھا اور یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی، ٹم لینڈرکنگ حال ہی میں سعودی عرب کے دورے سے واپس آئے تاکہ ہمسایہ ملک یمن میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ "شام کے بارے میں سکریٹری نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی سرحد پار امداد کو مزید 12 ماہ جاری رکھنے کی اجازت دے اور اس دوران یقینی بنایا جائے کہ ان تینوں سرحدی کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے بلا تعطل امداد کی رسائی جاری رہے جو اس وقت استعمال ہو رہے ہیں"۔

یہ طریقہ کار، جس کی تجدید سلامتی کونسل کے ووٹ کے ذریعے کی گئی ہے، اقوام متحدہ کی اہم امداد کو شمال مغربی شام میں لوگوں تک پہنچنے کی اجازت دیتا ہے۔ شمال مغربی شام کا علاقہ اپوزیشن کے زیر قبضہ ہے۔ اس طریقے کے تحت امدادی سامان کو حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں سے نہیں گزرنا پڑتا۔

اس کی آخری بار جنوری میں تجدید کی گئی تھی اور اس کی میعاد 10 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی سرحد پار امداد میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات خطے کے اولین ممالک میں سے ایک تھا جو اسد حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا اور کئی سالوں تک شامی صدر کو ہٹانے کے خواہاں گروپوں کی حمایت کرتے رہنے کے بعد ایسا ہوا۔ واشنگٹن نے اسد حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت جاری رکھی ہے۔

لیکن ناقدین نے شام میں بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کی کمزوری کو ذمہ دار قرار دیا ہے جس کی وجہ سے اس خطے کے ممالک کو دمشق کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کو آگے بڑھانے کی ترغیب ملی۔

اسد حکومت کے اتحادیوں، چین اور روس نے برسوں تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دباؤ ڈالا جس کے بعد اقوام متحدہ سے منظور شدہ کراسنگ کی تعداد 2014ء میں چار سے کم ہو گئی ہے۔

برسوں سے ماسکو نے بین الاقوامی تنظیموں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ خصوصی طور پر دمشق کے زیر کنٹرول علاقوں سے گزر کر پورے ملک میں امداد تقسیم کریں -- اور یہ معاملہ چھ ماہ سے زائد کی سرحد پار توسیع کو ویٹو کرنے تک جا پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں