سعودی عرب میں پیٹ جڑے دو شامی بچوں کو آج علیحدہ کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں میڈیکل اور سرجیکل ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر آپس میں جڑے ہوئے دو بچوں کو علیحدہ کرنے کے آپریشن کی تیاری کرلی۔ شام کے جڑواں بچوں بسام اور احسان کا پیٹ آپس میں ملا ہوا تھا ۔ آج جمعرات کو دونوں کو علیحدہ کیا جائے گا۔

جڑواں بچوں بسام اور احسان کو الگ کرنے کے آپریشن میں میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کی سربراہی رائل کورٹ کے مشیر اور کنگ سلمان ہیومن ایڈ اور ریلیف سنٹر کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبد اللہ الربیعہ کریں گے۔

بسام اور احسان کا آپریشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایت پر کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے ایک پریس بیان میں بتایا کہ آپریشن میں ساڑھے 9 گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔ یہ آپریشن 5 مراحل میں ہوگا۔ ماہرین، کنسلٹنٹس، تکنیکی، نرسنگ اور معاون عملہ پر مشتمل 26 افراد آپریشن میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی جڑواں بچے بسام اور احسان 22 مئی 2023 کو جمہوریہ ترکیہ سے آئے تھے اور ان کی عمریں 32 ماہ ہیں۔ ان کا وزن ایک ساتھ 19 کلو گرام ہے۔ طبی ٹیم نے طبی معائنے کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے سینے کے نچلے حصے، پیٹ، جگر اور آنتوں میں شریک ہیں۔

ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ بچے "احسان" کو پیشاب اور تولیدی نظام کی کمی کی وجہ سے اپنے بھائی "بسام" پر انحصار کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ احسان کے دل میں بھی پیدائشی نقائص ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر احسان کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ طبی ٹیم نے جڑواں "بسام" کی زندگی کو بچانے کی خواہش کے تحت علیحدگی کا آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرجیکل ٹیم کو توقع ہے کہ بچہ "احسان" زندہ نہیں رہ سکے گا۔ سعودی عرب میں آپس میں جڑے ہوئے جڑواں بچوں کا یہ 58 واں آپریشن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں