ایران پر پابندیوں کے جواب میں تہران میں برطانوی ناظم الامور طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے برطانیہ کی جانب سے تہران پر عائد کی جانے والی تازہ اقتصادی پابندیوں پر سخت برہمی کا اظہارکیا ہے۔

لندن کی جانب سے نئی پابندیوں کے نفاذ کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کو تہران میں برطانوی ناظم الامور کو طلب کیا اور انہیں "تخریب اور مداخلت کی کارروائیوں" کے خلاف احتجاجی مکتوب حوالے کیا۔

وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ تہران میں برطانوی سفارت خانے کی چارج ڈی افیئرز ازابیل مارچ کو دفترخارجہ میں میں طلب کیا گیا جہاں ان کے سامنے ایران پر تازہ پابندیوں پر احتجا ریکارڈ کرایا گیا۔

غیر قانونی عمل اور مداخلت!

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ان کا ملک برطانوی حکام کے بیانات اور موقف اور حالیہ پابندیوں کو غیر قانونی اور ایران میں بے جا مداخلت سمجھتا ہے۔

ایران کا یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکومت نے ایک بل تیار کیا ہے جس کے تحت حکومت کو تہران میں فیصلہ سازوں کو ان کی "مخالفانہ سرگرمیوں" کی وجہ سے نشانہ بنانے کے لیے اضافی اختیارات ملیں گے۔

گذشتہ اپریل میں برطانوی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے منسلک تہران پر نئی پابندیوں کے ایک حصے کے طور پر ایرانی پاسداران انقلاب پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے اس وقت ایک بیان میں کہا کہ "ایرانی حکومت ایرانی عوام پر وحشیانہ جبر اور دنیا بھر میں خونریزی برآمد کرنے کی ذمہ دار ہے، لہذا ہم نے ایران پر 300 سے زیادہ پابندیاں عائد کی ہیں اور ان پابندیوں کا ہدف ملک میں موجود پاسداران انقلاب بھی شامل ہے "۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں 16 ستمبر 2022 کو 22 سال کی عمرکی ایرانی کرد لڑکی مہسا امینی کی پولیس کی تحویل میں موت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے ہاؤس آف کامنز کو بتایا کہ اس کے بعد سے ایرانی حکومت نے حزب اختلاف کو خاموش کرنے کی اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ یہ کوششیں ایران کے اندر تک محدود نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ایرانی اپوزیشن کو ڈرایا دھمکایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں