جنین کیمپ کی تعمیر نو کے لیے امارات کا 15 ملین ڈالر امداد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً دو دہائیوں میں اسرائیلی فوج کی شدید ترین کارروائی کے بعد جنین پناہ گزین کیمپ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے 15 ملین ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔

یو اے ای نے فنڈنگ کا وعدہ جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کی دور روزہ جارحیت میں ہونے والی تباہی کے بعد کیا ہے۔ کیمپ کی تنگ سڑکوں اور گلی کوچوں کو بڑی تباہی کا سامنا ہے۔ صہیونی فورسز کے حملے کے باعث ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوگئے اور کیمپ چھوڑنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ اس آپریشن میں 12 فلسطینی شہید ہوگئے۔ ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے اطلاع دی ہے کہ یہ رقم فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ’’ انروا‘‘ کو دی جائے گی۔ یو این ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی جنین کیمپ میں تباہ شدہ مکانات اور کاروبار کی تعمیر نو کے لیے کام کرتی ہے۔

UNRWA نے حال ہی میں مشرق وسطی میں لاکھوں لوگوں کی مدد کرنے والے اپنے روزمرہ کے کاموں کو جاری رکھنے کے لیے درکار فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیل کی شدید دراندازی کے دوران بلڈوزر نے سڑکوں کو اکھاڑ کر سینکڑوں فوجیوں کے لیے راستہ صاف کیا۔ 24 ہزار افراد کی گنجان آبادی والے اس علاقے کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ ان سڑکوں کے اطراف پتھروں اور چٹانوں کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں۔ کچھ سڑکیں مکمل ٹوٹ گئی ہیں۔

یو این ایجنسی نے بتایا کہ ایجنسی کے ایک مرکز صحت کی کھڑکیوں اور دیواروں کو اور ایک سکول تک جانے والی سڑک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انروا نے گزشہ ماہ فلسطینیوں کی مدد جاری رکھنے کے لیے ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اس کانفرنس میں 300 ملین ڈالر کی ضرورت کا بتایا گیا تاہم کانفرنس میں 107 ملین ڈالر کے وعدے کئے گئے تھے۔

اسرائیل نے ہتھیاروں کو تباہ کرنے اور ضبط کرنے کے نام پر پیر کے روز جنین کیمپ پر خوفناک حملہ کیا تھا۔ اس حملے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ اس شدید دراندازی نے دو دہائی قبل کے دوسرے فلسطینی انتفاضہ کی یاد دلا دی۔

جنین میں نظر آنے والی تباہی کے کچھ مناظر 2002 میں کی جانے والی بڑی اسرائیلی دراندازی سے ملتی جلتی تھی۔

اسرائیل اس سال مقبوضہ مغربی کنارے میں 140 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ اس دوران جھڑپوں میں 25 اسرائیلی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ خیال رہے اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی القدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کرلیا تھا۔ بعد ازاں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فورسز باہر نکلنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں