شام نے بی بی سی کی اکریڈیٹیشن منسوخ کر دی: وزارت اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام نے 'گمراہ کن رپورٹس' پربرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اکریڈیٹیشن (توثیق) منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جنگ زدہ ملک میں کسی بین الاقوامی میڈیا ادارے کے خلاف ایک نادر اقدام ہے۔

شامی وزارت اطلاعات نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کے پیشہ ورانہ معیارات پر عمل نہ کرنے اور متعصبانہ اور گمراہ کن رپورٹس نشرکرنے پر اصرار کی وجہ سے بی بی سی کے نامہ نگار اور کیمرا مین کی تصدیق منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ شام میں بی بی سی ریڈیو کے نامہ نگار کی توثیق بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔بی بی سی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ 2011 میں شام میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بی بی سی نے وقتاً فوقتاً ملک میں زمینی حقائق کے بارے میں غیرمعروضی اور جعلی معلومات پرمبنی رپورٹس پیش کی ہیں۔

اس تنازع میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچا اور صنعتیں تباہ ہوچکی ہیں۔

وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ ’’بی بی سی کو ’ایک سے زیادہ مرتبہ‘ خبردار کیا گیا لیکن اس نے دہشت گرد تنظیموں اور شام کے دشمنوں کے بیانات کی بنیاد پر اپنی گمراہ کن رپورٹس نشر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا‘‘۔

دمشق شاذونادر ہی بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی توثیق منسوخ کرتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ شام میں بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کے مقامی نامہ نگار موجود ہیں۔

جنگ کے عروج کے دنوں میں بہت سے غیر ملکی صحافی شام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔پھرغیر ملکی طاقتوں اور عالمی انتہا پسندوں کی جنگ زدہ ملک میں مداخلت اور دراندازی شروع ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں