ایران میں مزار پر ہلاکت خیز حملے کی پاداش میں دو افراد کو سزائے موت: رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے ایک شیعہ مزار پر دہشت گردانہ حملے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی۔

گذشتہ سال اکتوبر میں اس حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی تھی۔ یہ خبر ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کو دی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" کی رپورٹ کے مطابق دونوں کو جنوبی شہر شیراز میں ہفتے کو علی الصبح پھانسی دی گئی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان افراد نے اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں آئی ایس آئی ایس (داعش) کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے شیراز میں شاہ چراغ مزار پر حملے کو منظم کرنے میں ان کی مدد کی تھی۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک حملہ آور کو معروف مزار میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا جس نے پہلے ایک تھیلے میں اسالٹ رائفل چھپائی تھی۔ پھر دکھایا گیا کہ اس کے حملے کے بعد نمازیوں نے بھاگنے اور راہداریوں میں چھپنے کی کوشش کی۔

حملہ آور، جس کی شناخت تاجکستان کے شہری کے طور پر ہوئی، بعد میں حملے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن بعد میں ان کی تعداد 13 کر دی گئی۔

اسلامک اسٹیٹ، جو ایک وقت میں پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی، نے ایران میں پہلے کی گئی ایک دہشت گرد کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، جس میں 2017ء میں ہونے والے مہلک جڑواں حملے بھی شامل ہیں۔

ان حملوں میں پارلیمنٹ کو اور اسلامی جمہوریہ کے بانی، آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کے مقبرے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں