اسرائیل کا حزب اللہ پرسرحد پرغیر قانونی چوکیاں قائم کرنے کاالزام، کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دونوں ممالک کی سرحد پر دو درجن سے زیادہ فوجی چوکیاں قائم کرلی ہیں۔

سنہ2006ءکی اسرائیل،لبنان جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت حزب اللہ کے مسلح جنگجوؤں کو سرحدی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس یا یونیفیل کے فوجی تعینات ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دونوں فریق قواعد کی پاسداری کریں۔

تاہم اسرائیل کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں یہ چوکیاں بلیولائن کے ساتھ قائم کی گئی ہیں۔یہ اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ سرحد ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو طویل عرصے سے عام شہریوں کے بھیس میں علاقے میں داخل ہوتے رہے ہیں لیکن کچھ اب یونیفارم پہنتے ہیں اور کھلے عام ہتھیار رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص نے اسرائیل میں 60 کلومیٹر کا سفر طے کیا اورایک بم دھماکا کیا جس سے ایک شہری زخمی ہوگیا تھا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاڈ ایردان نے جون کے آخر میں سلامتی کونسل کوایک خط میں لکھاتھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں حزب اللہ نے بلیولائن کے ساتھ کم سے کم 27 نئی فوجی چوکیاں قائم کی ہیں۔

ان چوکیوں کی تعمیر کے بعد سے حزب اللہ کے کارندوں کی جانب سے شروع کیے گئے تنازعات اور واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انھوں نے کہا:’’حزب اللہ منظم طریقے سے یونیفیل کو اپنے بنیادی مشنوں کے نفاذ کی صلاحیت سے محروم کر رہی ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جنوبی لبنان میں اس کی فوجی تیاری بلا روک ٹوک جاری رہے‘‘۔

لیکن اسرائیل بھی اقوام متحدہ کی قرارداد کی کئی مرتبہ خلاف ورزی کرچکا ہے۔مارچ میں اقوام متحدہ کی ایک دستاویز کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے 3 نومبر سے 20 فروری تک 182 مرتبہ بلیو لائن کے اوپر پرواز کی تھی جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا ہے۔

مارچ میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بار بار درخواستوں کے باوجود یونیفیل کو ابھی تک دلچسپی کے متعدد مقامات تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

حزب اللہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ راکٹ اور میزائل موجود ہیں اور وہ کسی بھی بڑے تنازع میں کردار ادا کرے گی۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ شام میں لڑنے والے اہلکاروں کی لبنان میں واپسی سے اس گروپ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور انھوں نے گروپ کو ایک گوریلا تنظیم سے پیشہ ور فوجیوں کے ساتھ ایک مکمل فوجی تنظیم میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسرائیلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لبنان تاریخ کے بدترین معاشی اور مالی بحران میں سے ایک میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، حزب اللہ مزید طاقتور ہوتی جا رہی ہے اور لبنان کی سرکاری مسلح افواج اتنی مضبوط نہیں ہیں کہ وہ اس کی نگرانی کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں