شام میں امریکا کے ڈرون حملے میں داعش کا سربراہ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق شام میں ڈرون حملے میں داعش کا ایک لیڈر ہلاک ہوگیا ہے۔امریکی فوج نے یہ ڈرون حملہ شام کے مغربی حصے میں روسی فوجی طیاروں کی جانب سے ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کو ہراساں کیے جانے کے چند گھنٹے کے بعد کیا ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدہ دار نے بتایا کہ جمعہ کو تین ریپر ڈرونزعسکریت پسندوں کی تلاش میں پرواز کر رہے تھے جب انھیں روسی طیاروں نے قریباً دو گھنٹے تک ہراساں کیا۔ اس عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کے کچھ ہی دیر بعد حلب کے علاقے میں امریکی ڈرون نے موٹرسائیکل پر سوار اسامہ المہاجر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا اورہلاک کردیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت اسامہ المہاجر شمال مغربی شام میں تھے لیکن وہ عام طور پر جنگ زدہ ملک کے مشرقی علاقے میں ہوتے تھے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ امریکی فوج نے اسامہ المہاجر کی شناخت اور ہلاکت کی کیسے کی تصدیق کی ہے۔اس حملے کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

اتوار کے روز ایک بیان میں امریکا کی مرکزی کمان نے کہا کہ اس بات کے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ اس حملے میں کوئی عام شہری ہلاک ہوا ہے۔تاہم فوج ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ایک شہری زخمی ہوا ہے۔

جمعہ کو مسلسل تیسرے روز امریکی حکام نے شکایت کی تھی کہ خطے میں روسی لڑاکا طیاروں نے امریکی ڈرونز کے ارد گرد غیر محفوظ انداز میں پروازیں کی ہیں اور انھیں ہراساں کیا ہے۔

امریکی فضائیہ کی مرکزی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل الیکس گرنکیوچ نے ایک بیان میں کہا کہ روسی طیاروں کو غیرپیشہ ورانہ انداز میں ڈرونز کے قریب راستوں میں اڑایا ہے جس کی وجہ سے ایم کیو-9 نے غیرمحفوظ حالات سے بچنے کے لیے رد عمل ظاہر کیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پہلی جھڑپ بدھ کی صبح اس وقت ہوئی جب روسی فوج کے طیارے 'غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے میں ملوث' تھے۔اس وقت تین امریکی ایم کیو-9 ڈرون داعش کے خلاف مشن رہے تھے۔ جمعرات کے روز امریکی فوج نے کہا تھا کہ روسی لڑاکا طیاروں نے شام کے اوپر فرانسیسی اور امریکی طیاروں کے خلاف "ناقابل یقین حد تک غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں پرواز کی تھی۔

امریکی فضائیہ کی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل مائیکل اینڈریوز کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پیش آنے والا یہ واقعہ قریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔اس میں ایک ایس یو 34 اور ایک ایس یو 35 طیارے شامل تھے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز پہلے کی پروازوں میں غیر مسلح تھے لیکن جمعہ کے روز ان کے پاس ہتھیار تھے کیونکہ وہ اسامہ المہاجر کا شکار کر رہے تھے۔

امریکا کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ایرک کوریلا نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم پورے خطے میں داعش کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں