غربِ اردن: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک مسلح شخص کو گولی مار کر شہید کردیا ہے جس کے بارے میں صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مسلح شخص اپنی گاڑی سے باہر نکلا اور رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع گاؤں دیرنظام کے قریب ایک دستی بم پھینکا اور فوجیوں پر فائرنگ کردی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا اور حملہ آور کو مار گرایا۔فلسطین کی وزارت صحت نے مزید تفصیل بتائے بغیر 33 سالہ بلال قدح کی موت کا اعلان کیا ہے۔ وہ دیر نظام کے قریب سے ہی تعلق رکھتا تھا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں تین جولائی سے اب تک مزاحمت کاروں اور بچوں سمیت اٹھارہ فلسطینی شہید جبکہ دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ان میں سے بیشترشمالی شہر جنین پراسرائیلی فوج کے دو روزہ حملے میں مارے گئے۔ یہ اسرائیلی فوج کا حالیہ برسوں میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیل نے 'حد سے زیادہ طاقت' کا استعمال کیا ہے اور ڈرون حملوں اور بکتر بند بلڈوزروں سے گنجان آباد جنین پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز یہ دھمکی دی تھی کہ ’’جو بھی دہشت گردی کا ارتکاب کرے گا،اسے دو جگہوں میں سے کسی ایک میں رکھا جائے گا: جیل یا قبر‘‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے واقعات میں 195 فلسطینی شہید ہوچکےہیں۔ ان کے علاوہ 27 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں ایک یوکرینی اور ایک اطالوی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں