اردن: عمارت انہدام میں 14 ہلاکتوں کے کیس میں مالک کو 42 سال قید کی سزا

14 ستمبر کو تعمیراتی کام کی وجہ سے عمارت گری، مالک نے غفلت برتی، مزید دو افراد کو بھی قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے دارالحکومت عمان کی مجسٹریٹ عدالت نے عمان کے علاقے لویبدہ میں دو رہائشی عمارتوں کے گرنے اور 14 افراد کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین سزا پر عمل درآمد کا فیصلہ کرلیا۔

14 ستمبر 2022 کو عمان کے علاقے ’’لویبدہ‘‘ میں ایک رہائشی عمارت منہدم ہو گئی اور ملبے تلے دب کر 14 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے تھے۔

عدالت نے منہدم ہونے والی عمارت کے مالک کو اموات کا سبب بننے کا مجرم قرار دیا اور 14 مرتبہ تین، تین سال قید کی سزا سنا دی۔ اس طرح عمارت کے مالک کو 42 سال قید کا سزا دی گئی۔ عدالت نے لویبدہ میں دو عمارتوں کے گرنے کے معاملے میں دیکھ بھال کرنے والے ٹھیکیدار اور الیکٹریشن کو بھی 3 سال کے لیے قید کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے عمارت میں کام کرنے والے ایک کارکن کو بھی مجرم قرار دینے کا حکم دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عمارت میں بہت سے مسائل ہیں اور اس کے باوجود اس نے کام جاری رکھا تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت آیا جب عدالت نے منہدم ہونے والی عمارت کے مالک کو عمارت کی حالت کا علم ہونے اور اس کے باوجود غفلت برتنے کا ذمہ دار ہونا ثابت کیا۔

ایک عمارت کے گرنے کا سبب بننے والے تینوں ملزموں نے عدالت کے سامنے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تھا۔

خصوصی ماہرین کی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں مرکزی عمارت کے گرنے کی وجوہات کا تعین کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیولنگ وال پہلے گرا، اس دن عمارت کے گرنے اور اس کی زمین میں لیولنگ کی وجہ تعمیراتی کام تھا۔ ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیسے ہی درمیانی کالم ہٹایا گیا پوری عمارت گر گئی۔ ایک عمارت گرنے سے اس کے ساتھ والا مکان بھی گر گیا تھا۔ کیس کی سماعت گزشتہ برس 25 ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں