’فساد فی الارض‘ کے الزام میں گرفتار ایرانی گلوکار کو چھ سال قید کی سزا

توماج صالحی فی الحال سزائے موت سے بچ گئے مگران کے خلاف کئی دوسرے کیسز چل رہے ہیں جن میں سزائے موت ہوسکتی ہے: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی عدلیہ نے راپ موسیقار توماج صالحی کو چھ سال قید کی سزا سنائی ہے، جنہیں ان کے وکیل کے مطابق حکمرانوں کے خلاف عوامی مظاہروں کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنے گانوں میں صالحی نے 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی "اخلاقی پولیس" کی حراست میں موت کے بعد ملک گیر احتجاج کی لہر کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہیں حکومت مخالف احتجاج کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔

صالحی کو ان کے موسیقی کی وجہ سے وسیع شہرت اور مقبولیت حاصل ہے جو غریبوں اور حالیہ برسوں کے مظاہروں میں حصہ لینے والے گروہوں کے مصائب کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے گانوں میں میڈیا، صحافیوں، کارکنوں اور حکمران اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کرنے والے فنکاروں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے وکیل نے اخبار ’شرق‘ کو بتایا کہ ان کا مؤکل سزائے موت سے تو بچ گئےمگر انہیں چھ سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ صالحی کو "فساد فی الارض" کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ ان پر کئی اور الزامات کے تحت بھی مقدمہ چل رہا ہے، خدشہ ہے کہ انہیں سزائے موت ہوسکتی ہے۔

فارسی اخبار ’اعتماد‘ نے وکیل رضا اعتماد انصاری کے حوالے سے بتایا کہ عدالت نے صالحی کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی توہین کرنے اور حکومت مخالف عناصر کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام سے بری کر دیا۔ انہیں قید تنہائی سے جیل کے گروپ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق ان کے وکیل نے عندیہ دیا کہ صالحی پر دو سال تک موسیقی کی کسی بھی سرگرمی پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

پچھلے سال نومبر میں ایرانی عدلیہ نے صالحی پر "سیاسی نظام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے"، "ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے"، "اسلامی جمہوریہ کے مخالف ممالک کے ساتھ تعاون" اور "تشدد کو بھڑکانے" کا الزام عائد کیا۔ غیر ملکی فنکاروں نے حال ہی میں صالحی کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسے سزائے موت دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں