عدلیہ مخالف منصوبے کے مخالف ہزاروں اسرائیلیوں کا بن گوریون ایئرپورٹ پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عدلیہ کو کمزور کرنے کی حکومتی کوششوں کے خلاف احتجاج کے لیے بڑے پیمانے پر اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

اہم شاہراہیں بند کرنے والے 70 احتجاجی مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں گرفتار شدگان میں 45 کو چھوڑ دیا گیا۔ مظاہرے پیر کی رات اس وقت شروع ہوئے جب اسرائیلی قانون سازوں نے عدالتی اووہال سے متعلق اہم نقطے پر تبادلہ خیال شروع کیا۔

عدلیہ میں اصلاحات کے اس منصوبے کی وجہ سے ملک تقسیم کا شکار گیا جس نے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بے چینی اور بے یقینی کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ حکومتی ایما پر عدلیہ میں اصلاحات کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے بن گوریون کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو گئے۔ وہ فٹ پاتھوں پر قطار میں کھڑے ہو کر اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے۔

تاہم پروازوں کی آمد ورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ گھنٹوں کے احتجاج کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق، نو مظاہرین اور ایک پولیس افسر کو مظاہروں سے معمولی زخم آئے، جنہیں طبی امداد فراہم کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینسز کو مقامی ہسپتالوں تک پہنچنے سے روکا گیا، جس کی وجہ سے کم از کم چھ مریضوں کی فوری طبی امداد میں تاخیر ہوئی۔

القدس کے مقامی وقت کے مطابق، شام 5:45 بجے تک اسرائیلی کرنسی شیکل کی ڈالر کے مقابلے قدر میں 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ سال کے آغاز سے اب تک شیکل کی قدر میں تقریباً 5 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ احتجاجی تحریک اور ٹیکنالوجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے خدشات ہیں۔ کیا وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو عدلیہ اصلاحات تجاویز کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایک اہم احتجاجی گروپ نے کہا۔ "گذشتہ رات، اسرائیل گویا آمریت کے دہانے پر کھڑا ملک بن گیا، یہ اسرائیلی ریاست کی مکمل اور کلی طور پر تباہی ہے۔"

ثقافتی ورثہ کے وزیر امیچائی الیاہو نے کہا کہ نیتن یاہو کی قیادت والے اتحاد کو اس کی جگہ پر ہی رہنے دیا جائے گا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی نظام کو "تھوڑا تھوڑا کر کے" تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال کریں۔ وزیر تعلیم، یوو کیش نے انہیں "دہشت گرد" کہا۔

اسرائیل کی تاریخ میں انتہائی دائیں بازو کی جانب میلان رکھنی والی موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ ملکی عدلیہ بہت طاقتور ہو چکی ہے اور بائیں بازو نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ تبدیلی کے مخالفین جن میں - ٹیک انٹرپرینیورز سے لے کر فوجی تجربہ کاروں تک - اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے - کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے سیاستدانوں کو بے لگام طاقت اور اختیارات مل جائیں گے۔

اسرائیلی پارلیمان نے ایک مسودہ قانون کی ابتدائی منظوری دی ہے جس کے تحت ججز ان حکومتی فیصلوں کو نہیں روک سکیں گے جنہیں قانون سازی کرنے والے "غیر معقول" سمجھتے ہیں۔ قانون کی شکل اختیار کرنے سے پہلے اس بل کو ووٹنگ کے مزید دو مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ ریزرو پائلٹوں کے ایک گروپ نے منگل کو اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر سے ملاقات کی۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کمانڈر کو بتایا "ہم آمریت کی خدمت نہیں کریں گے، ہم نے سلطنت کی خدمت کرنے کا حلف اٹھایا ہے، نہ کہ بادشاہ کی۔"

جون کے آخر میں جب سے جوڈیشل اوور ہال سے متعلق قانون سازی دوبارہ شروع ہوئی، سینکڑوں فوجی ریزروسٹ - طبی ماہرین، انٹیلی جنس افسران، جنگی فوجیوں اور پائلٹوں - نے یاد داشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان یادداشتی خطوط میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالتی تبدیلیاں قانون بن جاتی ہیں تو وہ سروس کے لیے حاضر ہونے کا پابند نہیں ہوں گے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلانٹ نے کہا کہ خدمت یا رضاکارانہ خدمات کو روکنے کے مطالبات "ہمارے دشمنوں کے لیے گویا انعام اور ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔"

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے قانون ساز ڈین ایلوز نے کہا کہ مظاہرین اس بات کو نہیں سمجھتے کہ عدالتی تبدیلی، اسرائیل کی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کی حامل حکومت کو قانون سازی کا جمہوری حق حاصل ہے۔

گذشتہ سال کے آخر تک وزیر اعظم رہنے والے، اور حزب اختلاف کے موجودہ رہنما، یائر لاپڈ نے اتحاد پر الزام لگایا کہ وہ "رات کے وقت چوروں کی طرح" کا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا، "حکومت نے معقولیت کی شق ختم کر دی اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بدعنوان جمہوریت مخالف قوانین کے علاوہ انہیں کسی بات میں دلچسپی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں