اسرائیلی استغاثہ کے دو یہودی آباد کاروں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی استغاثہ نے حال ہی میں دو یہودی آباد کاروں کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمات دائر کر دیئے، ان میں سے ایک پر فلسطینیوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کے دوران مسجد کی بے حرمتی کا اور دوسرے پر گھر کو آگ لگانے کا الزام ہے۔ اس کارروائی پر امریکہ نے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ ماہ مقبوضہ مغربی کنارے کے کئی دیہاتوں اور قصبوں میں سینکڑوں آباد کاروں کی طرف سے ہنگامہ آرائی اور آتش زنی کی وارداتوں کا ارتکاب کیا گیا جس کے بعد 20 جون کو مزاحمتی تنظیم حماس کے بندوق برداروں کی فائرنگ سے چار اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔

جائیداد سے محروم ہونے والے فلسطینیوں میں سے کچھ افراد دہری امریکی شہریت کے حامل تھے۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ 30 سال سے کچھ زیادہ عمر کا ایک مدعا علیہ/ملزم "فسادیوں کی بڑی تعداد میں" شامل تھا۔ اس نے اوریف گاؤں میں عمارات پر چیزیں پھینکیں، اس علاقے کی مسجد میں فرنیچر اور کھڑکیاں توڑ دیں، اور قرآن کے نسخے پھاڑ کر فرش پر پھینک دیے۔ ان کا مقصد مقدس مقام کو شدید نقصان پہنچا کر لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔

فرد جرم میں کے مطابق دوسرے ملزم، 22 سالہ آف-ڈیوٹی سپاہی، پر الگ سے الزام لگایا گیا کہ وہ ام صفا گاؤں کے ایک گھر میں ہجومی نقب زنی میں شریک تھا۔ اس وقت ایک ماں اپنے چار بچوں کے ساتھ وہاں موجود تھی جو بچوں کو گھر کی ایک الماری میں چھپانے پر مجبور ہوگئی۔

اس نے صحن میں رکھی ایک کرسی کو دروازے سے لگا کر آگ لگا دی۔ آگ گھر میں پھیل گئی اور دھواں میں دم گھٹنے سے دو بچے زخمی ہو گئے۔

ملزمان کی نمائندگی کرنے والی Honenu قانونی فرم نے ان کے خلاف الزامات کو غلط قرار دیا۔ فرم کے مطابق، پہلے ملزم کو اسرائیلی حکام کی جانب سے غلطی کی بنا پر نشانہ بنایا گیا اور دوسرے کو "میڈیا اور عوامی مقاصد کے لیے" غلط طور پر شناخت کیا گیا اور غلط فرد جرم عائد کر دی گئی۔

ان الزامات پر - جن میں بدتمیزانہ رویہ، توہین مذہب، دانستہ کی گئی آتش زنی، اور شدید جسمانی اذیت دینے والا حملہ شامل ہے - عموماً

زیادہ سے زیادہ سزا

تین سے 20 سال کے درمیان قید کی سزائیں ہوتی ہیں۔ فرد جرم میں انہیں "دہشت گردی کی کارروائیوں" یا "نسل پرستانہ حملوں" کے طور پر دوبارہ نامزد کیا گیا تھا۔ اسرائیلی قانون کے تحت، اس سے عدالتیں اس قابل ہو جائیں گی کہ وہ ثابت ہونے والے کسی بھی جرمانے پر جرمانے کو دوگنا کر سکیں۔

فرد جرم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کیا شہادت پیش کی جائے گی۔ بظاہر ان میں سے ایک میں استغاثہ کے تین گواہان کے ناموں میں ردوبدل کیا گیا ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ خفیہ ذرائع ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کی قانون نافذ کرنے کی کوششیں محدود پیمانے پر اور سست رفتار ہیں جس نے فلسطینیوں کو غیر مؤثر کر دیا ہے۔ مذاکرات کے ذریعے ریاستی اہداف کے حصول کے لیے امریکی سرپرستی میں کی جانے والی کوششوں میں تعطل کے بعد اب اس بات کو تقریباً ایک عشرہ ہو چکا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے آباد کاروں کے ہنگاموں کو "ریاستی دہشت گردی" قرار دیا۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی اور رجعت پسند حکومت میں ایسے وزراء شامل ہیں جو آباد کاروں کے لیے دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرنے پر ناراض ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں