اماراتی شہریوں کا مذاق اڑانے والی ٹک ٹاک ویڈیو پر سوشل میڈیا انفلوئنسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دبئی میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو ایک طنزیہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا ہے، جس میں وہ ایک پرتعیش کاروں کے شو روم کے اندر دولت لٹانے والے امیر اماراتی کی تصویر کشی کر رہا ہے۔

ویڈیو میں وہ حیران ملازمین پر نوٹوں کے ڈھیر پھینکتا ہے اور سب سے مہنگی کار خریدنے کی پیشکش کرتا ہے، حکام کے مطابق وہ دراصل اس شہر کے شاہانہ طرز زندگی کا مذاق اُڑاتا ہے، جو اپنی چمکتی ہوئی فلک بوس عمارتوں اور منفرد سیاحتی مقامات کے لیے مشہور ہے۔

دبئی سماجی طور پر مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر علاقوں سے زیادہ معتدل ہے، یہاں لباس اور تفریحی سرگرمیوں کی آزادی کے ساتھ ساتھ بار اور کلب بھی نظر آتے ہیں۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے کچھ قوانین کے تحت رہائشیوں کو عوامی سطح پر حکام پر تنقید کرنے یا سماجی اصولوں کا مذاق اڑانے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

انفلوئنسر، حمدان ال رند، جو خود کو آن لائن "کار ایکسپرٹ" کہتے ہیں، ایشیائی نژاد اور متحدہ عرب امارات کے رہائشی ہیں۔ ان کے ٹک ٹاک پر 2.5 ملین سے زیادہ پیروکار ہیں۔ ان کی تازہ ترین ویڈیو کو گرفتاری کے بعد ہٹائے جانے سے پہلے بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

ویڈیو میں، انہوں نے قندورہ پہن رکھا ہے، یہ لمبا سفید لباس جسے عام طور پر اماراتی مرد پہنتے ہیں، چشمے اور سرجیکل ماسک کے ساتھ وہ بھاری عربی لہجے کے ساتھ انگریزی میں ملازمین سے بات کرتے ہیں جبکہ ان کے معاونین نقدی کے ڈھیروں سے بھرے اسٹریچر کے گرد گھومتے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ، حکام کا کہنا ہے کہ ان پر "پروپیگنڈا جو کہ رائے عامہ کو مشتعل کرتا ہے اور مفاد عامہ کو نقصان پہنچاتا ہے ، پھیلا کر "انٹرنیٹ کا غلط استعمال" کرنے کا الزام ہے۔" یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو اماراتی شہریوں کا غلط اور جارحانہ تصور پیش کرتی ہے اور ان کا مذاق اڑاتی ہے۔

حمدان ال رند، جو متحدہ عرب امارات میں اپنی کار ڈیلرشپ چلاتے ہیں، اس سے پہلے بھی طنزیہ ویڈیوز پوسٹ کر چکے ہیں- ان میں سے ایک وائرل ویڈیو میں انہوں نے خود کو ایک امیر اماراتی کے طور اپنی چار بیویوں کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدتے ہوئے دکھایا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کو ٹھیک کرنے کے بارے میں ویڈیو ٹیوٹوریلز بھی پوسٹ کرتے ہیں۔

جنوری 2022 میں نافذ کیے گئے سائبر کرائم قانون کے تحت درج ذیل چند پہلوؤں کو سائبر جرائم کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں دوسروں کی توہین اور غیبت کرنا، ایسے ڈیٹا کو شائع کرنا جو میڈیا کے مواد کے معیارات کے مطابق نہیں ہے، غیر قانونی مواد بنانا اور اسے ہٹانے سے گریز کرنا، غیر ملکی ملک یا مذہب کی توہین کرنا اور مزید شامل ہیں۔

پچھلے مہینے، متحدہ عرب امارات کے رہائشی ایک عرب شہری کو مردوں اور گھریلو ملازمین کے خلاف ایک ویڈیو پوسٹ کرکے نفرت انگیز تقاریر کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سال قید اور 136,000 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

وام کے مطابق، استغاثہ نے اس کی گرفتاری کا حکم "گمراہ کن ویڈیو پوسٹ کرنے سے پیدا ہونے والے انتشار کے تناظر میں دیا تھا۔

متحدہ عرب امارات دنیا کے چند امیر ترین افراد کا مسکن ہے، اور دبئی دنیا کی سب سے اونچی فلک بوس عمارت، ایک شاپنگ مال کے اندر سکی ریزورٹ، دنیا کے نقشے اور پام کے درخت کی شکل والے انسانوں کے بنائے ہوئے جزیروں پر بنائے گئے لگژری رہائشی علاقے کی وجہ سے نمایاں ہے۔ دبئی کی پولیس کے پاس مہنگی کاروں ہیں، ان میں 2.5 ملین ڈالر کی بگاٹی ویرون اور 500,000 ڈالر کی لیمبورگینی ایوینٹاڈور بھی شامل ہیں۔

بعض اماراتیوں نے ایسی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جن میں خود کو مہنگی ترین کاروں اور گھڑیوں کی فوری خریداری کرتے ہوئے ، ریگستان میں اعلی سواری پر گھومتے پھرتے، اور مسافروں کی نشستوں پر چیتا اور شیروں کے ساتھ کنورٹیبل گاڑی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ لیکن حکام اس طرح کی تصویر کشی کے بارے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر غیر ملکیوں کے ذریعے مذاق کے طور پر کی جائے۔

اتوار کو، وزارت داخلہ نے ایک اور ویڈیو کی تحقیقات کا اعلان کیا جس میں ایک صحرائی سڑک پر پھنسے ہوئے ایک اعلیٰ درجے کی اسپورٹس کار میں دو افراد کو دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاتون اماراتی پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچی اور ایک گیس پمپ کو زمین میں چپکا کر ٹینک کو ری فل کرنے میں ان کی مدد کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں