محمود عباس کا جنگ سے متاثرہ جنین شہر کا غیرمعمولی دورہ

تباہ حال پناہ گزین کیمپ کی تعمیر نو کاعزم، کیمپ کے مکانوں کی ثابت قدمی کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس نے کل بدھ کو غرب اردن کے شمالی شہر جنین اور اس میں موجود اسرائیلی جارحیت کے شکار پناہ گزین کیمپ کا 10 سال سے زائد عرصے میں اپنا پہلا دورہ کیا۔ اس دورے کے موقع پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد کیمپ کی "فوری طور پر" تعمیر نو کریں گے۔ اسرائیلی فوج کی اس وحشیانہ کارروائی میں ایک درجن فلسطینی شہید اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

محمود عباس نے کیمپ کو "جدوجہد، ثابت قدمی اور چیلنج کا آئیکن" قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ "ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ ہم ایک اتھارٹی، ایک ریاست، ایک قانون اور ایک سلامتی اور استحکام ہیں، جو ہمارے اتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچائے گا ہم اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے"۔

سینکڑوں فلسطینی کیمپ کے داخلی دروازے پر جمع ہوئے جہاں محمود عباس نے ایک جلے ہوئے ریسٹورنٹ کے سامنے اپنی تقریر کی جسے اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں تباہ کردیا گیا تھا۔

صدر عباس نے فوجی آپریشن میں مارے جانے والوں کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی، جن میں سے بیشتر کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر انہوں نے فلسطینی کوفیہ پہن رکھا تھا اور بائیں ہاتھ میں زیتون کی شاخیں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر ثابت قدم رہیں گے اور اسے نہیں چھوڑیں گے۔

عباس کا دورہ ختم ہونے اور وہ کیمپ سے باہر نکلنے کے بعد گولیاں چلائی گئیں۔

اس سے قبل بدھ کو محمود عباس کو لے جانے والے دو ہیلی کاپٹر جنین کیمپ کے قریب اترے۔ فلسطینی صدر اندرون ملک دوروں کے لیے رام اللہ میں اپنی رہائش گاہ سے شاذ و نادر ہی نکلتے ہیں۔

عباس آخری بار 2012 میں جینن گئے تھے لیکن کیمپ نہیں گئے۔

جنین پناہ گزین کیمپ میں تقریبا 18,000 افراد رہائش پذیر ہیں۔ محمود عباس کی آمد پر کچھ لوگوں نے ان کے خلاف جلوس بھی نکالا اور تحریک فتح کے رہ نماؤں کو وہاں سے نکال دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں