پینتالیس دن دوپہر کے وقت زمینی سفر سے گریز کیا جائے: سعودی ماہر موسمیات کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ماہر موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق نے نے متنبہ کیا ہے کہ ان دنوں اور اگلے 45 دنوں کے لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اور زہریلی ہواؤں کے بڑھنے کی وجہ سے دوپہر کے وقت زمینی سفر سے گریز کیا جائے۔ ڈاکٹر خالد نے کہا کہ گردو غبار کو اڑانے والی ہواؤں کے پیش نظر اگلے دنوں میں صبح اور شام کے اوقات میں سفر کرنا ہی بہتر ہے۔

ڈاکٹر خالد الزعاق نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ ان دنوں میں ہم آندھی کا طوفان دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہوائیں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ تہامہ، یمن اور ہارن آف افریقہ کے ساحلوں پر مستقل ہوائیں ہلچل مچا رہی ہیں۔ موسم گرما میں دھول اور مٹی اڑاتی ہوائیں سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی چل پڑتی ہیں۔ دوپہر کے وقت ان کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سورج غروب ہونے تک دھول چیزوں پر جم جاتی ہے۔ عوام اسے "البوارح" کا موسم کہتے ہیں۔ اس موسم میں ہوا صحرا کی ریت کو اڑاتی ہے۔

سعودی ماہر موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق نے مزید کہا کہ مستقل، بڑھتی ہوئی، اور گرد آلود ہوائیں گرمیوں کے پورے موسم میں جاری رہنے کا امکان ہے۔ 52 دنوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔

نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی نے سعودی عرب کے موسم کے متعلق اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آج جمعرات کو توقع ہے کہ تیز ہوائیں گردوغبار اڑاتی رہیں گی۔ ان ہواؤں کی وجہ سے لوگوں کو دیکھنے میں بھی مشکلات پیش آئیں گی۔ شمالی سرحدوں، ریاض، شرقیہ، نجران، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے کچھ حصوں، جازان اور عسیر کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں