چھوٹی فرمیں اماراتی شہریوں کو بھرتی کریں یا بھاری جرمانہ ادا کریں: یو اے ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے نجی شعبے کی چھوٹی کمپنیوں کو بھی ایمرٹائزیشن اسکیم میں شامل کر لیا ہے۔ چھوٹی کمپنیاں وہ ادارے ہیں جن کے ملازمین کی تعداد 50 سے کم ہے۔

20 سے 49 ملازمین کے ساتھ چلنے والے نجی اداروں کو 2024 میں کم از کم ایک متحدہ عرب امارات کے شہری اور 2025 تک ایک دوسرے کی خدمات حاصل کرنا لازم ہو گا۔ انسانی وسائل اور امارت کاری کی وزارت کی جانب سے ایمرٹائزیشن کے حوالے سے حالیہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

رہنما خطوط کے مطابق خدمات حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی فرم کو 2025 کے آغاز میں 26 ہزار 100 ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔ 2026 کے آخر میں یہ جرمانہ 29 ہزار 400 ڈالر ہو جائے گا۔ جرمانہ عائد ہونے کی صورت میں اسے قسطوں میں ادا کیا جا سکے گا۔

حکومتی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ فیصلے کا مقصد 14 اہم اقتصادی شعبوں میں ٹارگٹڈ اداروں میں ملازمت کرنے والے اماراتیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

جن 14 شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے حوالے سے نیا اقدام اٹھایا گیا ہے ان میں معلومات اور مواصلات، مالیاتی اور انشورنس سرگرمیاں، رئیل اسٹیٹ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی سرگرمیاں، انتظامی اور معاون خدمات، فنون اور تفریح، کان کنی اور کھدائی، تبدیلی کی صنعتیں، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی کام، تعمیرات، نقل و حمل اور گودام، مہمان نوازی اور رہائش کی سروسز، ، ہول سیل اور ریٹیل کی سروسز شامل ہیں۔

اس حوالے سے اماراتی وزیر نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایمریٹائزیشن اہداف کے ذریعے ہدف بنائے گئے اداروں کو وسعت دینے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور یہ اقدام ہمارے شہریوں اور خود اداروں دونوں کے لیے فائدے کا باعث بنے گا۔ یہ ادارے نفیس پروگرام کی حمایت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نفیس ایک وفاقی پروگرام ہے جو اگلے پانچ سالوں میں ملک کے نجی شعبے میں متحدہ عرب امارات کے شہریوں کی شمولیت کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ پروگرام وسیع پیمانے پر معاون ماحولیاتی نظام پیش کرتا ہے۔ اس پروگرام میں تنخواہ کی امدادی سکیمیں، بے روزگاری کے دوران مراعات اور ملازمت کے دوران تربیت جیسی سہولیات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں