سعودی عرب فٹ بال کی نئی منزل ہے: نیو یارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی اخبار ’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں سعودی عرب کو فٹ بال کی نئی منزل قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کو 4 سعودی کلبوں کے حصول کا اعلان کیے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کریم بینزیمہ روشن لیگ کے چیمپیئن ’’الاتحاد‘‘ کے ساتھ کھیلنے کے لیے جدہ آگئے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کو معلوم ہوگیا کہ سعودی لیگ فٹ بال کی دنیا میں سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک بن گئی ہے۔

امریکی اخبار ’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مطابق کریم بینزیمہ کے بعد نگولو کانٹے نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد رابن نیوس، مارسیلو بروزووک، کالیڈو کولیبیلی، ایڈورڈ مینڈی اور روبرٹو فرمینو بھی اسی نقش قدم پر چلے۔ انہوں نے یورپی کلبوں کے کاروباری ایجنٹوں اور عہدیداروں پر ن ہ صرف الزام تراشی کی بلکہ ان ایجنٹس کو ایسے نئے حریف کے متعلق فکر مند بھی کردیا جو مشرق وسطیٰ میں نمودار ہو رہا تھا اور کھلاڑیوں کو سعودی عرب جانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

روبرٹو فرمینو
روبرٹو فرمینو

ان دنوں سعودی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق ٹیکنیکل ڈائریکٹر جان وان ونکل کو روزانہ درجنوں کالز موصول ہوتی ہیں۔ کال کرنے والے ان سے کلب کے کسی عہدیدار کا فون نمبر مانگتے ہیں یا سعودی کلبوں میں فیصلہ سازوں تک پہنچنے میں مدد کے لیے کہتے ہیں۔

وان ونکل جنہوں نے اپنے کیریئر کا زیادہ تر حصہ سعودیہ میں گزارا ہے نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ سعودی بہت ہوشیار ہیں وہ پیسے کا استعمال صرف خرچ کرنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ یہاں بھی ان کی ایک کاروباری حکمت عملی ہوتی ہے۔

وان ونکل واحد فرد نہیں ہیں جنہوں نے اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کا سامنا کیا ہے بلکہ سعودی کلبوں میں کام کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں " لنکڈ اِن‘‘ سائٹ پر اپنے ذاتی پیجز کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں اور سعودی مارکیٹ تک پہنچنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

"نیویارک ٹائمز" نے مزید بتایا کہ سعودی افراد چینی لیگ کی غلطیوں سے بچنے کے خواہاں تھے۔ چینی لیگ تقریباً 7 سال قبل اپنے خاتمے سے پہلے مختصر عرصہ کے لیے شاندار طور پر ظاہر ہوئی تھی۔ سعودی ایک پائیدار منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے پروفیشنل لیگ نے اس موسم گرما میں ٹارگٹڈ کنٹریکٹنگ آپریشنز کے لیے بنیادی اصولوں کا ایک سیٹ جاری کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے قوانین میں تجویز کردہ معاہدے کے تحت بیس کی دہائی کے اواخر یا تیس کی دہائی کے اوائل کی عمر کے کھلاڑیوں میں سے سالانہ 3 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم کمانے والے کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایسوسی ایشن کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح سعودی ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف بولی لگانے کی جنگ میں شامل ہونے سے بھی روکا گیا ہے۔

بروزووک
بروزووک

ایسوسی ایشن کے ضوابط کے مطابق کوئی بھی کھلاڑی بڑی رقم حاصل کرنے کے لیے پیشکش کو بطور سودا استعمال کرتا ہوا پایا گیا تو وہ فوری طور پر بلیک لسٹ میں داخل ہو جائے گا۔ لیگ میں کام کرنے کے لیے ایک سپورٹس ڈائریکٹر کا تقرر بھی کیا جارہا ہے۔ اس کے لیے مائیکل ایمنالو کو لایا جائے گا۔ مائیکل ایمنالو نے لندن چیلسی اور فرانسیسی موناکو میں کئی سال کام کر چکے ہیں۔

’’الھلال‘‘ نے چیلسی کے پانچ کھلاڑیوں کو ایک اجتماعی پیشکش کی جس نے حکام کو مبالغہ آمیز ٹرانسفر فیس اور آنے والے سودوں پر ان کے اثرات کے امکان سے ناراض کردیا ۔ اس موقع پر لیگ نے اپنی اپروچ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور سعد اللذیذ کو سسٹم کو کنٹرول کرنے کا نگران بنا دیا۔ اور یہ وہ شخصیت ہیں جو مستقبل میں یورپی ٹرانسفر مارکیٹ میں سب سے اہم ناموں میں سے ایک بننے جا رہی ہیں۔

اللذیذ کے ساتھی جانتے ہیں کہ وہ شائستہ، ذہین اور روانی سے انگریزی بولتے ہیں۔ وان ونکل کا کہنا ہے کہ سعد اللذیذ بہت احتیاط سے سوچتے ہیں۔

اللذیذ کے متعلق زیادہ نہیں جانا جاتا سوائے اس کے کہ انہوں نے لیورپول یونیورسٹی سے پراجیکٹ مینجمنٹ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اور کہا جاتا ہے کہ انہیں امریکی فٹ بال میں دلچسپی ہے۔ اب وہ پروفیشنل لیگ کے صدر ہیں اور وہ اس سے قبل نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موجود رہے تھے۔

کالیڈو کولیبیلی
کالیڈو کولیبیلی

دو یورپی ایجنسیاں اللذیذ کے ساتھ غیر رسمی طور پر کام کر رہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کر سکتا ہے جو کلب اور لیگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اللذیذ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ کون لیگ کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اس کی ترقی میں حصہ ڈالتا ہے۔ لیگ کے انتظام کے قریبی ایک ذریعہ نے بتایا کہ اللذیذ کی توجہ ماسٹر پلان کی تکمیل پر ہے۔

یورپی فٹ بال کے سب سے طاقتور ایجنٹوں کو بھی کہا گیا ہے کہ اگر سعودیوں کو اپنے کلائنٹس میں سے کسی سے بات کرنے کی ضرورت پڑی تو وہ آپ سے رابطہ کریں گے اور ایک کھلاڑی کے ساتھ دوسرے کھلاڑی کے ساتھ کوئی ترجیحی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ یہ سبق سعودیوں نے چینی تجربے سے سیکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں