شامی حکومت کی ترکیہ کے راستے باغی علاقوں میں امداد پہنچانے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حکومت نے کہا ہے کہ وہ 6 ماہ کے لیے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں امداد کی ترسیل کی اجازت دے گی اور اسے "خودمختار فیصلہ" قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بسام صباغ نے اعلان کیا کہ شامی حکومت چھ ماہ کے لیے باب الہوی کے ذریعے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دے گی۔ یہ ترکی سے ملک کے شمال مغرب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں تک جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ ہے۔

کل جمعرات کو اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بسام صباغ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ حکومت نے "اقوام متحدہ اور اس کے مجاز اداروں کو باب الہوی کراسنگ کو عام شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے کا خودمختار فیصلہ کیا ہے۔"

شامی مندوب نے کہا کہ انہوں نے اپنا خط اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دونوں کو بھیجا ہے، جس میں ترکی کے راستے امداد کے مسلسل بہاؤ کی یقین دہانی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 13 جولائی سے شروع ہونے والے چھ ماہ کی مدت کے لیے شامی حکومت نے "اقوام متحدہ اور اس کی خصوصی ایجنسیوں کو باب الہوی کراسنگ استعمال کرنے کے لیے مکمل تعاون اور ہم آہنگی کی یقین دہانی بھی کی ہے۔

اس خط کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہمیں ابھی یہ خط موصول ہوا ہے اور ہم اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔"

قابل ذکر ہے کہ 2014 میں قائم کیے گئے میکنزم نے اقوام متحدہ کو شامی حکومت کی اجازت کے بغیر شمال مغربی شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں آبادی تک انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی تھی، جس نے ہمیشہ اس طریقہ کار کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اس میں توسیع نہ کرنے کے بعد اس طریقہ کار کے اثرات گزشتہ پیر کو ختم ہو گئے۔ گزشتہ منگل کو روس نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے میکانزم کی نو ماہ کی توسیع کو ناکام بنا دیا۔

دوسری طرف، کونسل نے منگل کے روز، 10 ووٹوں کی برتری سے روس کی طرف سے پیش کی گئی ایک متبادل تجویز کو مسترد کر دیا جس میں میکانزم کو چھ ماہ تک بڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شام میں 40 لاکھ افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن کی مشکلات فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں