نیتن یاہو دور حکومت میں غیر قانونی بستیوں میں تاریخی اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی آبادکاری مخالف تنظیم "پیس ناؤ‘‘ نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مذہبی قوم پرست حکومت نے اپنے دور اقتدار کے پہلے چھ ماہ کے دوران مغربی کنارے کی آبادکار بستیوں میں ریکارڈ تعداد میں ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر پر زور دیا۔

پیس ناؤ کے مطابق، جنوری سے لے کر اب تک اسرائیل نے مغربی کنارے میں آباد کاروں کے لیے 12,855 ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے ادائیگی کی ہے۔

2012 میں کی گئی تحقیق کے بعد سے یہ تنظیم کے ذریعہ ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اسرائیلی تنظیم نے ایک بیان میں کہا، "گذشتہ چھ مہینوں میں، واحد سیکٹر جس کی اسرائیل نے بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے، وہ سیٹلمنٹ انٹرپرائز ہے۔"

واضح رہے کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل کی جانب سے قبضے میں لی گئی زمین پر یہودی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، اور ان کی دہائیوں پرانی توسیع اسرائیل، فلسطینیوں اور عالمی برادری کے درمیان سب سے زیادہ متنازعہ مسائل میں سے ایک ہے۔

فلسطینی مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ایک آزاد ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بستیاں فلسطینی برادریوں کو الگ کر رہی ہیں اور فلسطینی ریاست کی امیدوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

اسرائیل کا اہم اتحادی امریکہ بھی اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی مسلسل توسیع کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کرتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً 700,000 آباد کار مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 279 بستیوں میں مقیم ہیں، 2012 میں ان کی تعداد 520,000 تک تھی۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے زیر تسلط اسی علاقے میں تیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ نسلی امتیاز ہے ، جسے اسرائیل مسترد کرتا ہے۔

نیتن یاہو کے اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کے وزراء شامل ہیں جو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں، اور وزیر اعظم نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیلی بستیاں فلسطینیوں کے ساتھ امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں