گردوں کی بیماری اور جدید طریقہ علاج پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس طائف میں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گردے کے امراض سے متعلق دوسری بین الاقوامی کانفرنس "ذیابیطس نیفروپیتھی" کےعنوان سے طائف میں مسلح افواج کےزیرانتظام ہسپتالوں کے سوسائٹی فار کڈنی ڈیزیزز اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے تعاون سے شروع ہوگئی ہے۔ طائف شہر میں واقع انٹرکانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا بھر سے بڑی تعداد میں گردوں کے امراض اور اس بیماری کے علاج کے ماہرین شرکت کررہے ہیں۔

کانفرنس کا مقصد گردے کے امراض پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس میں سائنسی سیشنز، ورکشاپس اور اس کے ساتھ نمائش کے انعقاد کے ذریعے تمام شعبوں، بیماری کی روک تھام کے طریقوں اور علاج کی تازہ ترین پیشرفت کے بارے میں صحت کے کارکنوں میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ نیز ذیابیطس نیفروپیتھی کے مریض کے اب تک دریافت ہونے والے علاج کے جدید طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔ ماہرین اس کانفرنس میں گردوں کے امراض سےبچاؤ کےلیے مختلف طبی مشورے اور تجاویز بھی پیش کریں گے۔

علم اور تجربات کا تبادلہ

کانفرنس کے صدر اور طائف میں مسلح افواج کے ہسپتالوں کے شعبہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر یاسر بابعیر نے سائنسی کانفرنسوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسیں گردوں کے امراض کے حوالے سے تمام سطحوں اور مہارتوں کے ہیلتھ کیئر پریکٹیشنرز کے لیے علم، تجربات کے تبادلے کا ایک غیر معمولی موقع ہیں۔ سعودی عرب گردوں کے امراض کے علاج میں دلچسپی لینے کے ساتھ ساتھ اس بیماری سے بچاؤ کے پیشگی طریقوں کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کرتا ہے۔

کانفرنس کے صدر نے طائف کے علاقے میں آرمڈ فورسز ہسپتالوں کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں جان کاری حاصل کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس کی تشخیص اور جانچ کیسے کی جائے اور دائمی بیماری کے علاج کے بہترین طریقے تلاش کیا ہیں۔ انہوں نے اس کانفرنس کے تمام ذمہ داران بشمول سائنسی اور آرگنائزنگ کمیٹیوں اور معاون کمپنیوں کا شکریہ ادا کیا جن کی مساعی سے اس بین الاقوامی ایونٹ کا کامیاب انعقاد ممکن بنایا جا سکا ہے۔

گردوں کی خرابی

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجلا المالکی نے وضاحت کی کہ ذیابیطس کے نتیجے میں گردوں کی خرابی گردے کے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔یہ گردے کے فیل ہونے کی بڑی وجہ ہے۔

سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن نے اس بیماری اور اس سے بچاؤ اور علاج کے طریقوں پر روشنی ڈالنے کے لیے ان کانفرنسوں کی اہمیت کی طرفہ توجہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق مملکت میں ڈائیلاسز یونٹس میں 46 فی صد مریض ہیموڈالیسس پر ہیں۔ گردوں کے امراض کے علاج میں آنے والی جدت کی وجہ سے گردوں کی بیماری کو محدود کردیا ہے۔

ڈاکٹر نجلا المالکی نے کہا کہ یہ کانفرنس صحت کی دیکھ بھال کی تبدیلی کے حوالے سے مملکت کے وژن 2030 کےاہداف کا حصہ ہے۔

دو روزہ کانفرنس میں چیلنجوں کی شدت اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر گردوں کی ناکامی کے مریضوں کے لیے تازہ ترین اعدادوشمار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے نتیجے میں گردے کی ناکامی اور دل کی بیماریوں کو کم کرنے کے لیے جدید ترین علاج میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں