ہجری سال کی آخری نماز جمعہ ادا، مسجد حرام کے تمام صحن بھر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہجری سال 1444 سال کے آخری جمعہ کو مسجد حرام میں بڑی تعداد نے نماز جعہ ادا کی۔ سعودی عرب میں متعلقہ اداروں نے لوگوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر سہولیات فراہم کرنے کا مربوط نظام قائم کیا تھا۔ ایک روحانی اور برکتوں سے بھرے ماحول میں نمازیوں کی سکیورٹی کے اتنظامات بھی کیے گئے تھے۔

مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریزیڈنسی کے سرکاری ترجمان "ھانی حیدر" نے بتایا کہ جمعہ کے روز عازمین کے استقبال کے لیے فیلڈ پلان میں المسجد الحرام کے داخلی راستوں اور راہداریوں کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا۔ مسجد حرام میں اوپر کی منزل پر جانے کے لیے زائرین کا ایسکلیٹرز کے ذریعے داخلہ کیا گیا۔ لوگوں کو نماز کے مقامات تک لے جانے اور رکاوٹ کا باعث بننے والے مقامات سے ہٹانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

مسجد کے تمام ہال بھر گئے تھے۔ اس دوران نمازیوں کی تعداد کی نگرانی کی جاتی رہی۔ تمام اداروں نے مربوط ہو کر آپریشن کی تکمیل کی۔ اس دوران ھنگامی حالات کی تیاری بھی کی گئی تھی۔ موسم کی خرابی سے پیدا ہونے کی صورت حال کے حوالے سے بھی خصوصی تیاری کی گئی تھی۔

ھانی حیدر نے بتایا کہ مسجد حرام میں 11 سمارٹ سٹرلائزیشن روبوٹس موجود تھے جو مسجد کے مختلف حصوں کو جراثیم سے پاک کرنے میں مصروف عمل تھے۔ 20 بائیو کیئر روبوٹ تھے۔ فوگ کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے بھی 20 روبوٹ لگائے گئے تھے۔ 600 جدید اور اعلیٰ معیار کے جراثیم کش آلات بھی سروسز فراہم کر رہے تھے۔

مسجد حرام میں 4 ہزار مرد خواتین کارکنوں نے سروسز کی فراہمی میں حصہ لیا۔ مسجد حرام کو ایک دن میں 10 مرتبہ دھویا جاتا ہے۔

مسجد حرام میں الیکٹرانک، الیکٹریکل اور مکینکل سسٹم کی مناسب دیکھ بھال کے لیے انجینئرنگ ٹیم کی دستیابی یقینی بنائی گئی۔

آڈیو سسٹم کو تیار کرنے کے لیے تکنیکی اور انتظامی کیڈرز اور قابلیت اور فیلڈ کی مہارت کے تعاون سے فیلڈ انجینئرنگ ٹیم کی موجودگی پر بھی زور دیا گیا تھا۔ مقدس ترین مسجد کے ہالز میں ایئر کنڈیشننگ یونٹس کے کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے درجہ حرارت کی پیمائش کے انتظامات کئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں