اسرائیل اپنی مہلک فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال کرتا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک پریس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے فضائی حملوں کے لیے اہداف کا انتخاب کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج فلسطینیوں اور ایران کے خلاف کیے جانے والے مہلک فوجی آپریشنز میں لاجسٹک امور کے بھی مصنوعی ذہانت سے مدد لیتی ہے۔

بلومبرگ نیوز کی جانب سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں فوجی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوج اب مصنوعی ذہانت کا سفارشی نظام استعمال کر رہی ہے جو فضائی حملوں کے لیے اہداف کو منتخب کرنے کے لیے بھاری مقدار میں ڈیٹا پر کارروائی کر سکتی ہے۔ اس میں "فائر فیکٹری" نامی ماڈل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو کہ ایک شیڈول تجویز کرنے کے لیے اہداف کے بارے میں اس ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔ یہ حملوں کو انجام دینے، گولہ بارود کے بوجھ کا حساب لگانے اور طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی ترجیحات اور حملوں کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار کے مطابق

اگرچہ دونوں نظاموں کی نگرانی انسانی آپریٹرز کرتے ہیں جو انفرادی اہداف اور فضائی حملوں کے منصوبوں کی اسکریننگ اور منظوری دیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اب بھی بین الاقوامی یا حکومتی سطح پر کسی ضابطے کے تابع نہیں ہے۔

فوج کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن یونٹ کے سربراہ اور تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں بات کرنے والے کرنل یوری نے کہا کہ "جس چیز کی منصوبہ بندی کرنے میں پہلے گھنٹے لگتے تھے اب اس میں منٹ لگتے ہیں۔

بلومبرگ سے بات کرنے والے فوجی حکام نے زور دیا کہ یہ نظام خاص طور پر " مستقبل کی جنگوں" کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتے ہیں اور فوجیوں کو ہلاکتوں کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تفصیلات بڑی حد تک مخصوص فہرست پر مشتمل ہیں، لیکن فوجی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج نے ان متنازع نظاموں کو استعمال کرنے کا تجربہ حاصل کر لیا ہے، خاص طور پر غزہ کی پٹی میں، جہاں اسرائیل اکثر فضائی حملے کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں