لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدوں پر کشیدگی، کیا کسی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند ہفتوں میں لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی جا رہی ہے۔ دونوں نے آخری بار جولائی 2006ء میں ایک بڑی جنگ لڑی تھی۔

اتوار کے روز ’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس محاذ پر کشیدگی تازہ حالات کا نتیجہ ہے۔

فوج کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے

بہت سی سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی فوج اس بات کو مسترد نہیں کرتی کہ وہ کئی دنوں کی لڑائی کے لیے تیار رہے گی۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تل ابیب نے شعبا فارمز میں حزب اللہ کی طرف سے لگائے گئے خیمے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی فوج میں شمالی علاقے کے کمانڈر نے لبنان کے ساتھ سرحدی بستیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی تاکہ انہیں موجودہ کشیدگی پر یقین دلایا جا سکے۔

شعبا فارمز میں دو خیمے

بتایا جاتا ہے کہ چند ہفتے قبل حزب اللہ نے شعبا فارمز میں دو خیمے لگائے تھے جن میں سے ایک اسرائیل کے مقبوضہ علاقے میں تھا۔ 26 جون کو اس نے جنوبی سرحد کی خلاف ورزی کے بعد ایک اسرائیلی ڈرون کو گرانے کا اعلان کیا۔

بدھ کے روز حزب اللہ کے 3 ارکان اس وقت معمولی زخمی ہوئے جب اسرائیلی فوج نےان کی طرف ایک اسٹن گرینیڈ پھینکا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "متعدد مشتبہ افراد نے شمالی سکیورٹی باڑ کے قریب پہنچ کر علاقے میں تخریب کاری کی کوشش کی"۔ فوج نے "مشتبہ افراد کا پتہ لگایا اور انہیں ہٹانے کے لیے ذرائع استعمال کیے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں