اسرائیلی عدلیہ کا حکومت کو فلسطینی ماہی گیر کو کشتی واپس کرنے کا حکم

اسرائیلی سمندری حکام نے گزشتہ برس ماہی گیری کی اجازت والے علاقے سے تجاوز کرنے پر کشتی ضبط کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دو اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آج اتوار کو اعلان کیا کہ ایک اسرائیلی عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ کے ایک ماہی گیر کو اس کی کشتی عارضی طور پر واپس کر دے جو اس سے مہینوں پہلے ضبط کی گئی تھی۔ یہ کشتی اس بنیاد پر ضبط کی گئی تھی کہ غزہ کے اس ماہی گیر نے ماہی گیروں کے لیے دیے گئے علاقے سے تجاوز کیا تھا۔

اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم "گیشا" نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ گزشتہ جمعہ کو اسرائیل کو ایک ماہی گیری کی کشتی چھوڑ دینے اور اسرائیلی عدالت میں قانونی طریقہ کار کے خاتمے تک اسے غزہ کی پٹی کے ماہی گیر کو واپس کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اسرائیلی تنظیم نے کہا کہ اس کشتی کو اسرائیلی بحری افواج نے 2022 کے آخر میں قبضے میں لے لیا تھا۔ مزید یہ کے اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی کے سمندری علاقے کے اندر گزشتہ سال فروری اور نومبر میں دو کشتیوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کشتیاں غزہ میں الحسی خاندان کے ماہی گیروں کی تھیں۔

گزشتہ ستمبر میں، "گیشا" اس کشتی کو عارضی طور پر چھوڑنے کا عدالتی فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جو فروری 2022 میں ضبط کی گئی تھی۔ جہاں تک نومبر میں پکڑی گئی دوسری کشتی کا تعلق ہے اس خاندان نے اسے جمعہ سے پہلے حاصل کرلیا۔ الھسی نے کشتی چھوڑنے کے اسرائیلی فیصلے کو "غیر منصفانہ" قرار دیا کیونکہ یہ "انتہائی سخت شرائط" سے مشروط تھی۔

ماہی گیر کے بھائی الھسی نے وضاحت کی کہ ہم نے 50,000 شیکلز (تقریباً 14,000 امریکی ڈالر) کی مالی گارنٹی ادا کی اور خاندان آدھی رقم اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گیا جبکہ عطیہ دہندگان نے بقیہ نصف ادا کر دیا۔

ماہی گیر کے بھائی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے ہمیں بتایا کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں ہوا تو یہ ضمانت واپس کر دی جائے گی۔ عدالت نے 100,000 شیکل (تقریباً 28,000 ڈالر) کی ضمانت کے ساتھ اسرائیلی ضامن کی موجودگی کی شرط رکھی ہے۔

الھسی نے کشتی کے ضبط ہونے اور اس عرصے کے دوران مچھلی نہ پکڑنے کے نتیجے میں خاندان کو ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسرائیلی فوج نے اس مسئلے سے متعلق ایجنسی کے سوال کا جواب نہیں دیا۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے فلسطینی ماہی گیروں کے لیے ماہی گیری کا اجازت یافتہ علاقہ اوسطاً چھ سے 15 ناٹیکل میل (11-27.8 کلومیٹر) کے درمیان مقرر کر رکھا ہے۔ اس محدود علاقہ کو بھی بعض اوقات حفاظتی اقدامات کے نام پر مزید کم کردیا جاتا ہے۔

غزہ کی پٹی میں تقریباً 700 کشتیاں ہیں جن پر تقریباً 4 ہزار ماہی گیر کام کر رہے ہیں، جو 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ غزہ میں انسانی حقوق کے المیزان مرکز کے مطابق گزشتہ برس کے دوران، اسرائیلی حکام نے غزہ کے پانیوں سے ماہی گیری کی 23 کشتیاں ضبط کیں۔ یہ 2017 کے سب سے زیادہ کشتیاں ضبط کرنے کا ریکارڈ ہے۔

واضح رہے 2007 سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی سخت سمندری، زمینی اور فضائی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ غزہ کی پٹی کی آبادی 2.3 ملین سے زیادہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے جن میں سے زیادہ تر غریب پناہ گزین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں